22 دسمبر، 2017

سوشل میڈیا پر کیڑے نکالنے والوں اور مولانا طارق جمیل صاحب کی تصویر پر تنقید کرنے والوں کے نام

تحریر ابوالحسنین

سب کے لئے قابل قدر اور ہمیشہ اتحاد امت کی بات کرنے والے جناب مولانا طارق جمیل صاحب کی ایک تصویر کیا وائرل ہوئی۔ کہ جیسے ناقدین کے لئے گولڈلن موقع ہاتھ لگ گیا۔ ہر طرح سے نشان تنقید بناتے رہے۔ غلیظ اور گندی سوچ کے ساتھ گندی گفتگو کرتے رہے۔ اب مولانا صاحب کی سنیئے کہ فرماتے ہیں

فرنکفرٹ جاتاہوں تو دوست فراری لیکر مجھے وصول کرنے آتا ہے۔ گلاسگو میں ایک دوست کے پاس لیموزین ہے، وہ اسے لیکر وصول کرنے آتا ہے۔ ایڈن برگ جاتا ہوں تو دوست رول رائس پر شہر گھماتے ہیں۔ 

اب آپ ہی بتائیں کیا ایسے موقع پر دوستوں کو کہوں کہ آپ اپنی گاڑی میں چلیں میں ریکشہ یا ٹیکسی میں آتاہوں۔

(یہاں میں اپنے فیس بک کے متقیوں، پرہیز گاروں اور نیک بندوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہے کیا اس کا جواب کسی کے پاس؟ نہیں نا۔ تو پلیز نان ایشوز کو ایشو مت بنائیں۔ اگر کسی کا مسلک آپ کو اچھا نہیں لگتا تو کون آپ کو اس میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ گزارش یہ ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسروں کا چھیڑو نہیں۔ اور دنیا میں امن سے رہنے اور امن سے رہنے دینے کا یہی اصول ہے۔ اگر آپ کی زبان، کلام اور ہاتھوں سے کسی دوسرے مسلمان کو ازیت پہنچتا ہے، تم اپنے آپ کو کس منہ مسلمان کہتے ہو) اور

میرے نبی ﷺ تو یہ فرماتے ہیں

الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

"مسلمان وہ ہے جو دوسرے مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ کی تکلیفوں سے محفوظ رکھے۔"

کیا نبی آخرالزمان کا نافرمان بھی مسلمان ہوسکتا ہے؟


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں