دسمبر 28, 2017

صوبائی حکومت اپر چترال کو بجلی دینے میں سنجیدہ نہیں، میری تمام کوششیں رائیگاں جارہی ہیں: ممبرقومی اسمبلی چترال

 



چترال (ٹائمزآف چترال : نمائندہ) گزشتہ دنوں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ممبو قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت اپر چترال کو بجلی کی فراہمی میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گولین گون بجلی گھر سے اپر چترال کے عوام کو بجلی فراہم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضع کیا کہ وفاقی اداروں پیسکو اور واپڈا کی جانب سے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ انہوں نے کہا گزشتہ 9 ماہ سے بحیثیت ایم این اے میں نے وفاقی حکومت سے جو کوششیں کی ہیں وہ پیڈو کامیاب نہیں ہونے دے رہا۔


انہوں نے مزید کہا ہے کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ اور منسٹر فار واٹر اینڈ پاؤر کے دفتر سے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ساتھ گزشتہ 9 مہینوں سے خط وکتابت ہوتیں رہیں لیکن پیڈو نے اس مسئلے کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ 

شہزادہ افتخار الدین نے کہا کہ ان کی کوششوں سے گولین گول پاؤر اسٹیشن کے سوئچ یارڈ سے ہی فی الحال 4 میگاواٹ بجلی اپرچترال کو دینے کی گنجائش نکالی گئی ہے مگر یہ تبھی عملی شکل اختیارکر سکتاہے جب پیڈو کے حکام پیسکو کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گے ۔ 

انہوں نے مزید کہا  کہ ریشن بجلی گھر کی سیلاب میں تباہی کے بعد اس سے بجلی حاصل کرنے والےتقریباً  21 ہزار صارفین کو بجلی کی فراہمی پیڈو کی ذمہ داری ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ تو ریشن بجلی گھر کی بحالی پر کام شروع کیا جارہا ہے اور نہ ہی گولین گول ہائیڈل پراجیکٹ سے اضافی بجلی حاصل خرید کر متاثرین کو دینے میں میں سنجیدہ ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ  28 دسمبر2017 کو قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی بجلی کے بارے میں  اجلاس کوغذی کے مقام پر ہورہا ہے جس میں پیڈو کے حکام کو بھی دعوت دی گئی ہے لیکن ابھی تک انہوں نے اپنی شرکت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی ہے جبکہ اس سے قبل بھی 3 دسمبر 2017 کو منعقدہ اجلاس میں نہ تو پیڈو کے چیف ایگزیکٹیو نے آنے کی زحمت کی اور نہ سیکرٹری انرجی اینڈ پاؤر کو آنے کی توفیق ہوئی۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر اپر چترال کو اس پراجیکٹ سے بجلی نہیں ملی تو اس کی ساری ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی جبکہ بحیثیت منتخب نمائندہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ شہزادہ افتخار نے مزید کہا کہ لویر چترال کو گولین گول پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کے لئے ان کی کوششوں سے 82 کروڑروپے خرچ کئے جاچکے ہیں جن میں جوٹی لشٹ کے مقام پر گرڈ اسٹیشن کا قیام بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں پیسکو کے زیر اثر علاقوں میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے گا۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں