اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

19 دسمبر، 2017

ڈی۔پی۔او چترال کیپٹن (ر) منصور امان، تعیناتی کے بعد چترال کے دورآفتادہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا لوگوں کے مسائل سنے

 



چترال (رپورٹ ایم فاروق- ٹائمز آف چترال) چترال کے ڈی۔پی۔او کیپٹن (ر) منصور امان، تعیناتی کے بعد چترال کے دورآفتادہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور لوگوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ 

اسی سلسلے میں انہوں نے کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ واضح رہے کہ کھلی کچہریوں کا سلسلہ منگل کے روز کوغزی سے شروع کیا گیا اور تھانہ کوغزی میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جسمیں چترال پولیس کے آفسران سمیت مقامی لوگوں کے علاوہ سیاسی نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ سیاسی نمائندگان میں سابق ایم۔پی۔اے چترال مولانا عبد الرحمن، پی۔پی۔پی کے سرگرم رکن شریف حسین، چیئرمین گولین مفتی مطیع الرحمان، چئیرمن وی سی کوغزی ایڈوکیٹ خورشید حسین مغل ، اعجاز احمد نائب ناظم وی سی کوغزی، صفدر علی آکاش اور جنرل کونسلر موری خواجہ امان اللہ  و دیگر نے اپنے اپنے علاقے کے مسائل اور حالات واقعات سے ڈی۔پی۔او چترال اور اسسٹنٹ کمشنر چترال کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی اور منشیات سے پاک ماحول پیدا کرنے پر S.H.O کوغزی اور پولیس کے جوانوں کی خدمات کو سراہتے ہیں۔ 


واضح رہے کہ سیاسی نمائندگان نے ڈی۔پی۔او چترال کو آگاہ کیا کہ وہ کمسن بچوں کی موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے پر پابندی لگا دے تاکہ روزمرہ کے حادثات اور پریشانیوں سے بچا جا سکے۔اس تقریب میں موجود مقامی لوگوں نے ڈی۔پی۔او چترال اور اسسٹنٹ کمشنر چترال کو  گولین گول پراجیکٹ سے رائیلٹی کے بنیاد پر بجلی فراہم کروانے اور واپڈا آفس میں ملازمتیں دلوانے کا مطالبہ کیا۔ عوام نے مزید کہا کہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنے پر جیل بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے لہزا اس پر غور کیا جائے۔ خیال رہے کہ پروگرام کے آخر میں تقریب کے مہمان خصوصی ڈی۔پی۔او چترال منصور امان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر لسانی،ذاتیت اور قومیت سے بالا تر ہوکر علاقے میں امن وامان اور منشیات سے پاک ماحول پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ تعاؤن کرنے کا وعدہ کیا اور امن کی بحالی کے حوالے سے لوگوں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کی خادم ہے اور ہمارے دروازے عوام کے لیے ہمیشہ کھلے رہینگے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں