14 دسمبر، 2017

سڑک حادثے میں جواں بیٹا، بیٹی جاں بحق ہوئے تھے۔ چار زحمی ابھی تک گھر میں پڑے ہیں حکومت سے امداد کی اپیل

 

چترال (گل حماد فاروقی) ایک ماہ قبل دروش سے تعلق رکھنے والے ایک ہی حاندان کے سڑک حادثے میں دو افراد جاں بحق اور چار زحمی ہوئے تھے جبکہ حادثے میں قریب حاندان کا گاڑی بھی تباہ ہوگئی تھی۔ حادثے میں زحمی افراد بھی چارپائی پر پڑے حکومتی امداد کی راہ تکتے ہیں۔ 


تفصیلات کے مطابق پچھلے ماہ دروش سے تعلق رکھنے والے امان اللہ عرف میاں جی جو دروش میں چائے کا چھوٹا سا کوکہ چلاکر اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کماتا ہے۔ اس کے بیٹوں نے محنت مزدوری کرکے ٹیکسی گاڑی حریدی تھی۔ اس اہل حانہ رشتہ داروں کے گھر جارہے تھے کہ اچانک گاڑی حادثے کا شکار ہوا جس میں سمیع اللہ اور شہبانہ بی بی دختر امان اللہ موقع پر جاں بحق ہوئے شبانہ فرسٹ ائیر کی طالبہ تھی۔ جبکہ حضرت حسین کی بیوی، اس کے دو بچے شدید زحمی ہوئے تھے۔ 

ہمارے نمائندے نے چترال سے 45 کلومیٹر دور جاکر اس حاندان سے ملاقات کی جس پر میاں جی نے حکومت وقت اور انتظامیہ سے کافی گلے شکوے کئے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے دوجوان بچے مر گئے اور تین زحمی ہوئے جو ابھی تک چارپائی پر پڑے ہیں مگر کسی نے بھی میرے ساتھ مدد نہیں کیا۔

دروش کے سابق ناظم حیدر عباس نے ہمارے نمائندے کوبتایا کہ یہ نہایت غریب حاندان ہے اور ایک چھوٹے سے کوکے میں بیٹھ کر اپنے لئے رزق حلال کماتے تھے اور جو گاڑی خریدا تھا ٹیکسی کرنے کیلئے وہ بھی تباہ ہوا۔ 

قاری فضل حق جو ایک سماجی کارکن ہے کا کہنا ہے کہ اس خاندان پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ایک تو ان کے دو افراد جاں بحق ہوئے اور تین زحمی ہوئے جو ابھی تک بستر پر پڑے ہیں ۔یہ نہایت غریب اور امداد کا مستحق حاندا ن ہے مقامی لوگوں نے چندہ جمع کرکے ان کا علاج تو کروایا تھا مگر ان کے گھر کا چولہا بجھ گیا ۔انہوں نے حکومت اور مخٰیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس متاثرہ حاندان کے ساتھ مالی طور پر مدد کرے تاکہ یہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرے اور گھر کا چولہا جلا کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں