جنوری 6, 2018

سال 2017ء میں چترال ہیری ٹیچ اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن سوسائیٹی (چیپس) کی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ

تحریر: کریم اللہ

چترال ہیری ٹیچ اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن سوسائیٹی (چیپس) کا قیام 5جون 2005ء کو رکھا گیا جو کہ گزشتہ بارہ برسوں سے چترال سمیت پورے پاکستان میں ماحولیاتی آلودگیوں کے حوالے سے آگاہی دینے ، صفائی مہم اور شجر کاری کے سلسلے میں خدمات سرانجاد ے رہے ہیں۔ چیرمین چیپس رحمت علی جوہر دوست نے بتایا کہ سال 2007ء کے بعد سال 2017ء ہمارے لئے انتہائی منفرد سال رہا جبکہ اس سال پورے پاکستان کے علاوہ بیرونی دنیا میں یعنی متحدہ عرب امار ت میں بھی چیپس یوتھ ونگ کی بنیاد رکھی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اورمعاشرے کو صاف ستھر ا رکھنے کے حوالے سے چیپس کے ممبران اپنا بھر پور کردار اداکریں گے ۔


اس کے بعد چیپس کے پروگرامات کا آغاز پاکستان میں کراچی سے ہوا جس میں نہ صرف کراچی میں چیپس یوتھ ونگ کا قیام عمل میں لایا گیا( اس سے قبل چترال میں چیپس کے زیر اہتمام یوتھ کلب موجود تھے لیکن اس مرتبہ کراچی ، لاہور، دبئی ،پشاور ، ہزار ہ ، گلگت بلتستان اور چترال میں چیپس یوتھ ونگز کا قیام عمل میں لایا گیا )جواپنے اپنے حلقوں میں صفائی اور شعور دینے کے حوالے سے اقدامات کریں گے ۔کراچی میں چیپس یوتھ ونگ کی جانب سے حبیب یونیورسٹی میں بہت بڑے پروگرام کا اہتمام کیا گیا جو کہ کراچی کی تاریخ میں چترالیوں کا سب سے بڑا پروگرام تھا حبیب یونیورسٹی میں سالانہ پروگرامات کے انعقاد کا اور سالانہ 10 سے زاید چترالی اسٹوڈنٹس کے لئے اسکالرشپ دینے کا معاہدہ بھی عمل میں آیا۔اس کے علاوہ کراچی ہی میں قاید اعظم کے مزار میں بھی صفائی مہم کا اہتمام کیا گیا ۔

اسی طرح لاہور میں بھی چیپس یوتھ ونگ کا قیام عمل میں آیا، جس میں لاہور کے مختلف اداروں میں پڑھنے والے 172سے زاید نوجوان شامل ہیں۔ نوجوان رضاکاروں کا یہ گروپ شاہی قلعہ لاہورمیں صفائی مہم کا اہتمام کیا ۔ اس کے علاوہ لاہور ہی میں پاک آرمی کے ساتھ مل کر مختلف تعلیمی اداروں میں بھی صفائی ، شجرکاری کا انعقاد ہوا۔

اسلام آباد کے مشہور تاریخی سیر گاہ شکر پاڑیاں میں صفائی مہم کا بندوبست کیا گیا جس میں اسلام آباد میں مقیم چیپس کے رضاکاروں کی بڑی تعداد شریک تھیں جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف تعلیمی اداروں میں صفائی اور شجر کاری مہم کی گئی ۔

چیپس یوتھ ونگ پشاور کی جانب سے حیات آباد میں واقع مشہور تاتارا پارک میں صفائی مہم کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مرد وخواتین نے شرکت کی ۔ اسی سال ہزار ہ یونیورسٹی میں بھی چیپس یوتھ ونگ کے زیر اہتمام صفائی اور شجر کاری مہم ہوئی ۔

چترال میں موسم بہار کے شروع ہوتے ہی صفائی اور شجر کاری مہم کا آغاز موری لشٹ سے کیا گیا پھر پورے چترال کے کونے کونے تک توسیع دی گئی جشن قاغلشٹ کے موقع پر وہاں صفائی کا اہتمام کیا گیا جبکہ جشن شندو ر کے بعد وہاں بھی صفائی کی گئی۔ علاوہ ازین چترال کے کونے کونے میں 100 سے زاید سکولوں میں شجر کاری اور صفائی مہم کا بندوبست کیا گیا ۔ اسی سال چیپس عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے منسٹری آف کلائمیٹ چینج کی جانب سے اسلام میں منعقدہ عالمی یوم ماحولیات میں شامل رہی کیا ۔ جبکہ خیبر پختونخواہ حکومت کے شجر کاری اور صفائی مہم کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے چیپس نے چترال کے انتہائی دور افتادہ وادی بروغل کے گاوں لشکر گاز سے لے کر ریچ، کھوت سمیت چترال کے کونے کونے تک صفائی اور شجر کاری مہم کے لئے آگاہی اور واک کا اہتمام کیا۔جس میں سینکڑوں رضاکاروں نے حصہ لیا۔رحمت علی جوہر دوست کے مطابق سال 2017ء کے دوران کل 300 سے زاید پروگراما ت کئے گئے اور بعض اوقات دن میں تین سے چار مقامات پر بھی پروگرامات کا انعقاد ہوا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چیپس کے زیر اہتمام اب تک 350 سے زاید مشہور شخصیات کے انٹرویوزکئے گئے ہیں ۔

رحمت علی جوہر دوست کا کہنا ہے کہ چیپس اپنے رضاکاروں کے ذریعے انقلابی کام کروائے ہیں یہ پاکستان کے ساتھ ہمارے بے لوث محبت اور اس کے فطری حسن کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے البتہ سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر چیپس کی کسی قسم کی مالی مدد نہیں کیجاتی اگر حکومت اور غیر سرکاری تنظیمیں چیپس کے اس مہم میں اس کا ساتھ دیتیں تو موجودہ پروگرام کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ پروگرام منعقد کرنے کی ہمارے پاس صلاحیت موجود ہے۔

چیرمین چیپس کا کہنا ہے کہ ہمارے گرین کلب کے 6ممبران نے اس سال 'پاکستان انونچر فاونڈیشن ' کے زیر اہتمام منعقدہ دس روزہ ٹور پروگرام میں شرکت کی اور ان میں سے 4نے پاکستان بیسٹ ایوارڈ حاصل کئے۔ اس کے علاوہ چیپس اور انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی پاکستان کے اشتراک سے پلاسٹک شاپنگ بیگ کے خاتمہ اور متبادل فراہم کرنے کے حوالے سے کام جاری ہے اور ای پی اے ہی نے پاکستان میں نئے شائع شدہ کتابوں کی پہلی قسط چیپس کو ڈونیٹ کی ہےاور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں