28 جنوری، 2018

ایمبولینس میں بارودی مواد سے دھماکہ کابل میں 95 افراد جان بحق جبکہ 165 سے زائد زخمی ہوگئے، اہم وفد اور وزارت کو نشانہ بنایا گیا

 



کابل/اسلام آباد (ویب ڈیسک) خود کش جیکٹ، موٹر سائیکل، کار وغیرہ کے بعد اب خود کش ایمبولینس دھماکہ ہوگیا۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خودکش ایمبولینس بم دھماکے میں 95 افراد جان بحق اور 165 زخمی ہوئے ہیں، زخمیون میں بیشر کی حالت تشویشناک ہے، جس سے خدشہ ہے کہ ہلاکتیں بڑھ جائیں گی۔ حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی ہے۔

پاکستان کی جانب سے حملے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید مذمت اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ ہم ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، معصوم لوگوں پر خودکش حملو کو کوئی جواز نہیں۔ 

کابل پولیس کے ترجمان بشیر مجاہد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین، بچے ، دکاندار اور علاقے میں آنے والے افراد شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک ایمبولینس میں چھپایا گیا تھا جسے پولیس چیک پوسٹ پر دھماکے سے اڑایا گیا۔ دھماکے کے بعد بڑی تعداد میں ایمبولینس گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں جبکہ سیکورٹی اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ آسمان پر دھویں کے گھیرے بادل چھا گئے۔

وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے دھماکے کیلئے ایک ایمبولینس گاڑی استعمال کی۔ حملہ آور نے پہلی چیک پوائنٹ پر بتایا کہ وہ ایک مریض کو جموریارت ہسپتال لے کر جارہا ہے جس کے بعد دوسری چیک پوائنٹ پر اسے شناخت کرلیا گیا اور اس نے دھماکہ کردیا۔ جس جگہ دھماکہ کیا گیا ہے اس علاقے میں اعلی امن کونسل کے دفاتر اور کابل پولیس ہیڈکوارٹر بھی موجود ہے ۔






کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں