جنوری 1, 2018

گولین گول بجلی گھر : وادی گولین کے متاثرین کا حکومت پاکستان سے جائز مطالبات : نہ مانے گئے تو پرامن احتجاج جاری رکھیں: عوام کا عزم

 


چترال (گل حماد فاروقی رپورٹ) وادی گولین کے سینکڑوں لوگ واپڈا کی ظالمانہ فیصلے کے حلاف احتجاج پر مجبور ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق جنت نظیر وادی گولین جہاں قدرتی پانی کے چشموں کی بہتات ہے اور پن بجلی پیدا کرنے کی بھی کافی گنجائش ہے۔ محکمہ واپڈا کی جانب سے اسی وادی میں 107 میگا واٹ پن بجلی گھر تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے مگر واپڈا حکام نے ان متاثرین کو عندیہ دیا ہے کہ ان کو بجلی نہیں مل سکتی۔ جس کے حلاف سینکڑوں لوگوں نے گولین کے مین شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا اور جلسہ بھی کیا۔

جلسے کی صدارت سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ضلع کونسل کے رکن مولانا عبد الرحمان نے کی۔احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اس بجلی گھر کیلئے گولین میں بہت بڑا پانی کا تالاب بنایا جس کی وجہ سے انکی آبپاشی اور پینے کی پانی بھی متاثر ہوئی حتٰی کہ مساجد میں بھی پانی کی قلعت پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پندرہ سالوں سے ان کی فصلیں تباہ ہورہی ہیں اور کام کی وجہ سے یہاں کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے۔

مقررین نے کہا کہ واپڈا کا مین لائن گزرنے کی وجہ سے یہ لوگ دو منزلہ آبادی بھی نہیں کرسکتے اور پانی کی قلعت کی وجہ سے ان کی پن چکی، چھوٹے پن بجلی گھربھی متاثر ہوئے۔ یہ لوگ پانی نہ ہونے کی وجہ سے ان پن چکیو ں میں آٹا بھی نہیں پھیس سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں نے نہایت خندہ پیشانی سے یہ سب کچھ اس امید سے برداشت کیا کہ ان کو بجلی ملے گی۔ مگر اب جب یہ بجلی گھر تیار ہورہا ہے تو واپڈا والوں نے ان کو خوشحبری سنائی کہ ان کو بجلی نہیں مل سکتی جو کہ نہایت زیادتی اور سراسر بے انصافی ہے۔

مقررین نے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر پانی و بجلی، سیکرٹری اور چئیرمین واپڈا کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹیو پیسکو سے مطالبہ کیا ہے کہ گولین کے لوگ بھی پاکستانی ہونے کے ناطے سے اس کے حق دار ہے کہ واپڈا کی بجلی گھر سے ان کو بجلی دی جائے انہوں نے کہا کہ وادی گولین کے 3500 کی آبادی بجلی سے محروم رکھنا آئین پاکستان کے بھی حلاف ہے۔

مظاہرین نے متنبہ کیا کہ اگر ان کو ان کا جائز حق یعنی بجلی نہیں دی گئی تو وہ جنوری کے مہینے میں وزیر اعظم پاکستان کے متوقع دورہ اور اس بجلی گھر کے افتتاح کو بھی سبو تاژ کریں گے اور ان کی تمام تر ذمہ داری متلقہ اداروں اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ بعد میں یہ جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ویلیج کونسل کے چئیرمین مطیع اللہ، سفیر اللہ، عبد الطیف، شریف احمد وغیرہ نے بتایا کہ ان لوگوں کا مطالبہ باالکل جائز اور درست ہے اور ان کو بجلی دینا ان کا بنیادی حق ہے۔

جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وادی گولین کے تین ہزار آبادی کو بجلی سے محروم نہ کیا جائے اور بجلی گھر میں درجہ چہارم اور نچلے درجے کے ملازمتیں بھی مقامی لوگوں کو دی جائے کیونکہ مقامی لوگوں کی زمین اور فصل متاثر ہوئی ہیں لہذا یہ ان کا حق ہے کہ کلاس فور کی ملازمت ان کو دی جائے انہوں نے فیسلہ کیا ہ جب تک ان کی مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں