15 جنوری، 2018

چترال سوشل میڈیا پر متنازع مواد کی اشاعت : توہین رسالت نہیں ہوئی ہے: جے آئی ٹی کی رپورٹ میں وضاحت

 

چترال (ٹائمزآف چترال نیوز) گزشتہ ماہ فیس بک پر متنازع پوسٹ پر عوامی رد عمل کی وجہ سے واقعے کی تفتیش کے لئے بنائی جانے والی جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم) کی انکوائری رپورٹ آگئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ معاملے کو ملک کے جید علماء کرام کے سامنے رکھ دیا گیا، جس کو دیکھنے اور پرکھنے کے بعد علماء نے رائے دی ہے کہ مذکورہ واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی مذکورہ واقعے سے ملوث شخص توہین رسالت کا مرتکب ہوا ہے۔ تاہم علماء نے سفارش کیے ہیں کہ غیر ذمہ دارانہ مواد کی سوشل پلیٹ فارمز پر اشاعت روکنے کے لئے سائبر کرئمز کے متعلقہ ادارے موثر قانون سازی کریں اور قانو کے تحت سزائیں دیں۔


جے آئی ٹی کی ٹیم نے اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دی اور ضلعی پولیس آفیسر منصور امان نے کہا کہ  ضلع ناظم، حساس اداروں کے نمائندوں، چترال پولیس، ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں ، علمائے کرام اور اسماعیلی کونسل کے ذمہ داروں پر مشتمل ٹیم نے مستقبل میں ضلع کے اندر فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے بھی کچھ فیصلے عمل میں لائے ہیں جن میں  مذہبی ہم آہنگی کونسل کا قیام، آئندہ کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پرموثر قابو پانے کے لئے ضلع میں سائبر کرائم سیل کا قیام شامل ہیں۔

ٹیم کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ ملک میں توہین رسالت کے خلاف موثر قانون موجود ہے، لہذا کسی کو بھی اس معاملے میں قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ 

اس موقع پر ضلع ناظم مغفرت شاہ، ایم پی اے سید سردار حسین شاہ ، نائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور، مولانا جمشید احمد، مولانا حسین احمد، بریگیڈیر (ریٹائرڈ) خوش محمد خان، محمد افضل ، سید احمد خان، محمد حکیم ایڈوکیٹ، عالم زیب ایڈوکیٹ، ایڈیشنل ڈی۔ سی منہاس الدین ،انفارمیشن سیکرٹری پی پی پی قاضی فیصل سعید، ایس ڈی پی او ایون ظفر احمد خان اور دوسرے موجود تھے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں