18 جنوری، 2018

موڑ کہو کی تین سالہ مبشرہ ناصر کے قتل پر خاموشی کیوں؟


چترال (رپورٹ: کریم اللہ) مبشرہ ناصر والد ناصر احمد موڑکہو کے علاقہ نوگرام سے تعلق رکھنے والی تین سالہ  بچی تھی ۔ 28دسمبر 2017ء کی  شام  اچانک ناصر احمد کے چچا ذات بھائی(جو کہ چترال پولیس کا اہلکار ہے ) کا لاڈلہ بیٹاشہزاد  نمودار ہوا اور آتے ہی صحن میں کسی کام میں مصروف ناصر احمد کو بغیر پوچھے گلے میں ہاتھ ڈال کر مارنا شروع کیا۔ نصیر احمد کسی طرح بھاگ کر اپنے گھر کے اندر چلا گیا تو پیچھے سے وہ لڑکا بھی گھر میں گھس کر ناصر احمد کو مارنے لگا ۔ ناصر احمد کی  تین سالہ بیٹی گھر کے اندر ہی کھیل رہی تھی ۔شہزاد نے ناصر احمد کی ٹانگین پکڑ کر گرا دیا جس پر نصیر احمد اپنی تین سالہ بیٹی مبشرہ ناصر کے اوپر گر پڑااوروہ تین سالہ  معصوم مبشرہ ناصر زور زور سے رونے لگی۔ اس کے بعد مبشرہ کو خونی پیچش شروع ہوگئی اور وہ روز بروز کمزور ہوتی گئی بالآخر 30دسمبر 2017ء  کو اسی وجہ سے  وہ جان بحق ہوگئی ۔ ناصر احمد کا کہنا ہے کہ ہم نے اس واقعہ کے بعد پولیس کو رپورٹ کیا اور اس لڑکے (شہزاد) کو پولیس پکڑ کے لے گئی اور چار دن بعد رہا ہوگیا ۔ جب مبشرہ کے والد سے تفصیلات حاصل کرنے کے لئے  ٹیلی فون کیا تو ان کا گلہ خشک تھا اور وہ بات کرتے ہوئے رو رہا تھا یہی حالت ان کے والدہ کی بھی تھی ۔ ناصر احمد نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بتایا کہ وہ لڑکا اب بھی انہیں دھمکیاں دے رہا ہے ۔

کیا نام نہاد غیر سیاسی کے پی پولیس اس جرم میں ملوث لڑکے کو قرا ر واقعی سزا دے گی ؟؟



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں