15 جنوری، 2018

جی آئی ٹی رپورٹ ! کیا پایا کیا کھویا (فکر فردا) کریم اللہ

 

دسمبر کے پہلے ہفتے میں اسماعیلیوں کے روحانی پیشواء پرنس کریم آغاخان دورہ چترال کے موقع پر تاریخ میں پہلی دفعہ اسماعیلی سنی بین المسلکی ہم آہنگی کا شاندار مظاہر ہ دیکھنے کو ملا ۔ جبکہ سنی کمیونٹی کے افراد اسماعیلیوں کے شانہ بشانہ انتظامات اور رضاکارانہ کاموں میں پیش پیش تھے ۔سنی مکتبہ فکر کے بعض اعتدال پسند دانشوروں ، ادیبوں اور علماء نے بھی عقاید کے اختلافات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکات کو سوشل اور مقامی میڈیا پراجاگر کیا، جس سے چترال میں بین المسالکی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے فروع میں مدد ملی (جس کے لئے اسماعیلی کمیونٹی کو اہل سنت کے بھائیوں کا شکرگزار ہونا چاہئے ) ۔

اس ساری صورتحال میں اسماعیلی لیڈر شپ اور اداروں کاکوئی کردار نہیں تھابلکہ یہ خالصتا عوامی اشتراک تھیں ۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اسماعیلی قیادت نے اس ساری خالص روحانی ایکٹویٹی میں ایم پی اے سلیم خان کے لئے ایک گراونڈ فراہم کیا کہ جہاں سے وہ اسےاپنی ڈرٹی سیاست کے لئے استعمال کرکے آنے والے الیکشن میں اسماعیلیوں کی ہمدردی حاصل کرسکیں ۔ اس سلسلے میں گرم چشمہ کے بازاروں میں اسماعیلی کونسل برائے اور اسماعیلی طریقہ بورڈ برائے لوئر چترال کے اعلی حکام کے اجازت سے اسماعیلی جھنڈے میں خوش آمدیدی بینرز آویزان کئے گئے ۔ پھر پرنس کریم کی تشریف آوری سے دو دن قبل مسٹر سلیم خان نے وہی پوسٹر سوشل میڈیا میں اپلوڈ کیا جس پر ان کے پارٹی سے تعلق رکھنے والا تعلیم یافتہ جاہل نے کچھ غلط کمینٹس کئے ۔ اس کے بعد کیا تھا بین المسلکی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کا سارا ماحول تیتر بیتر ہوکر رہ گئے ۔سیاسی مخالفین نے اس موقع کو عنیمت جان کر سلیم خان اور اس لڑکے کے خلاف توہین اور گستاخی کے الزامات لگا کر سوشل میڈیا میں اودھم مچادی جس کے اثرات عام زندگی پر بھی پڑنے لگیں، اور چترال کے مصنوعی اورنام نہاد مہذب وشائستہ ماحول میں انتہا پسندانہ خیالات کی بھرما ر ہوئیں ۔ اسی عرصہ میں اسماعیلی قیادت اور ادارے خاموش تماشائی بنے رہے جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے گئے بالآخر ضلع انتظامیہ نے اس ساری ناخوشگوار صورتحال کی تحقیقات کے لئے ضلع ناظم چترال جناب مغفرت شاہ کی قیادت میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) تشکیل دی جس کی رپورٹ گزشتہ دونوں منظر عام پر آئی ۔ رپورٹ میں سلیم خان اور کمنٹ کرنے والے لڑکے (جو کہ پولیس تحویل میں تھے) دونوں کے الفاظ کو گستاخی یا توہین رسالت قرار نہیں دیا گیا بلکہ کہاگیا کہ سلیم خان کے اس فعل سے سنی برادری کی دل شکنی ہوئی لہذا ان کو معذرت کرنا چاہئے۔

مشترکہ تحقیقی ٹیم کی رپورٹ جو بھی آئے لیکن ایک بات واضح ہے کہ سلیم خان (یا اس کے فیس بک پیچ کے ایڈمن) کے اس غیر ذمہ داری سے چترال میں اسماعیلی سنی فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا ملی اور نوبت تباہ کن ٹکراو تک پہنچی تھیں۔ اگر سلیم خان اپنے اس غیر ذمہ دارانہ فعل پر اہل سنت سے معذرت کرتا ہے تو ان پر لازم ہے کہ وہ اسماعیلی کمیونٹی سے بھی معافی مانگے کیونکہ ان کی وجہ سے پوری اسماعیلی کمیونٹی کو شدید ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ اسماعیلی کونسل اور طریقہ بورڈ کے عہدے داروں کو بھی جماعت سمیت پورے اہالیان چترال کے سامنے معافی مانگنا چاہئے ان کی غیر سنجیدگی اور سلیم خان کی سیاست کے لیے راستہ ہموار کرنے کی وجہ سے چترال میں حالات خراب ہوگئے۔ 

اس ساری صورتحال میں اہل سنت کے وہ افراد جنہوں نے سلیم خان یا اس لڑکے کے افعال پر پوری اسماعیلی کمیونٹی کے خلاف جنگ کرنے کی کوشش کی تھیں اور اسماعیلیوں کے روحانی پیشواء پرنس کریم آغاخان کے بارے میں ہتک آمیز جملے اور فقرے کسے ۔ کیاان کو اپنی حرکات وسکنا ت پر احساس ندامت ہے یا نہیں؟


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں