20 جنوری، 2018

آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں مبینہ کرپشن: شہباز شریف ۲۲ جنوری کو نیب میں پیش ہونگے



لاہور(ویب ڈیسک) نیب لاہور نے نیب آرڈیننس 1999ء کے تحت شہباز شریف کو طلب کیا ہوا ہے۔ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے آشیانہ اقبال میں کامیاب بولی حاصل کرنے والے کی بولی منسوخ کی۔ آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں 19 کروڑ 30 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا۔ نیب ذرائع کے مطابق، شہباز شریف کے حکم پر آشیانہ اقبال کا پراجیکٹ آگے ایوارڈ کیا گیا جس سے قومی خزانے کو  71 کروڑ 50 لاکھ کا نقصان ہوا۔

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے 22 جنوری کو احتساب بیورو کے سامنے پیش ہونگے، ان کا یہ فیصلہ قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد سامنے آیا، اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان نے نیب کی جانب سے طلبی کے نوٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تین روز قبل نیب لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر  خاور الیاس کی جانب سے جاری نوٹس میں شہباز شریف کو 22 جنوی کو صبح ساڑھے 10 بجے ٹھوکر نیاز بیگ لاہور میں واقع نیب کمپلیکس میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہو کربیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ 

نوٹس میں کہا گیا تھا  کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کے حوالے سے جاری کیس میں پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کی انتظامیہ، افسروں ، عہدیداروں اور لاہور کاسا ڈویلپرز کے مالکان، انتظامیہ اور دیگر نے دوران تفتیش یہ انکشاف کیا ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ غیرقانونی احکامات جاری کیے ۔ شہباز شریف کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا کہ پی ایل ڈی سی بورڈ کے غیرقانونی اقدامات کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا ۔وزیراعلیٰ پنجاب کو کہا گیا تھا  کہ آپ نے آشیانہ اقبال سکیم کے ٹھیکے کیلئے کامیاب بولی حاصل کرنیوالی کمپنی لطیف اینڈ سنز کا ٹھیکہ دوسری کمپنی کاسا ڈویلپرز کو دینے کے احکامات جاری کیے جس کی وجہ سے 19 کروڑ 30 لاکھ کا نقصان ہوا ۔نیب نوٹس میں مزید کہا گیا کہ بطور وزیراعلیٰ آپ نے پی ایل ڈی سی کو آشیانہ اقبال منصوبے کا ٹھیکہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو دینے کے احکامات جاری کیے جس کے باعث لاہور کاسا ڈویلپرز(جے وی) کو ساڑھے 71 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا اور منصوبہ ناکام ہوا۔ اس نوٹس کی موصولی کے بعد  اب  وزیر اعلیٰ پنجاب نےاپنے وکلا اور قانونی ماہرین سے طویل مشٓاورت کے بعد  22 جنوری کے دن نیب کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ 22 جنوری کو نیب کی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے ،اس سے قبل ترجمان  پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کی تحقیقات کے حوالے سے نیب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ۔

تحریک انصاف کے ممبرسینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی فرخ جاوید مون نے ڈی جی نیب پنجاب کی طرف سے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں کرپشن کا نوٹس لینے اوروزیراعلی پنجاب کو22 جنوری کوطلب کرنے کے فیصلے کوخوش آئند اورپنجاب میں میگا منصوبوں میں کرپشن کے خاتمے کی طرف اہم قدم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف آشیانہ سکیم نہیں بلکہ پنجاب کے تمام میگامنصوبوں میں قومی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں