19 جنوری، 2018

چترال کے سیاسی قائدین کادکھ (فکر فردا) کریم اللہ

 

ان دنوں چترال کے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی تاریخی سیاسی دشمنی(یہاں سیاسی مخالفت کو دشمنی کے طور پرلیا جاتا ہے ) بھلا کر ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں کبھی احتجاجی جلسے تو کبھی کارنر میٹنگوں سے عوام کے سامنے اپنی موجودگی کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب سے نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے سلسلہ میں چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست کے خاتمہ کی غیر مصدقہ خبر سامنے آئی ہے تب سے ہمارے سیاسی اکابرین کی نیندین اڑ چکی ہے۔

پچھلے دنوں پشاور میں چترالی سیاسی قیادت کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا بینر میں کچھ یوں لکھا تھا''چترال کی سیٹوں میں کمی ۔۔نامنظور''

موجودہ مردم شماری ۔نامنظور ۔نامنظور ،نامنظور۔ نامنظور

اہالیان چترال
اس کے دو دن بعد ہی پشاور میں ایک اور سیاسی قیادت کی بیٹھک ہوئی جس میں اسٹرینگ کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ آل پارٹیز کانفرنس کرکے سفارشات الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ارسال کرے گی ۔

یہاں پر بنیادی سوال یہ ہے کہ جب مارچ 2017ء میں مردم شماری کا آغاز ہوا تو اس وقت چترال سے باہر رہنے والے چترالیوں کو شامل نہیں کیا گیا اس وقت یہ نام نہاد لیڈران(چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو) کہاں تھے ؟ ان کو احسا س کیوں نہ ہو ا کہ اس عمل سے چترال سے باہر رہائش پزیر تین لاکھ سے زاید چترالی مردم شماری سے باہر ر ہیں گے؟ الیکشن کمیشن کے عملے نے ایسے افراد کو بھی شمار نہیں کیا جوکہ چھ ماہ سے زاید عرصہ سے چترال سے باہر ملازمت یا علاج معالجہ کے سلسلہ میں رہے ۔ اگر اس وقت ہماری سیاسی قیادت کو سمجھ آتی کہ اس عمل سے ہماری آبادی کم ظاہر ہوگی اور مستقبل میں اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تو کم ازکم اس وقت کوشش کرکے چترال سے باہر رہائش پزیر چترالی آبادی کو مردم شماری میں شامل کیاجاسکتا تھا لیکن ایسا نہ ہوا۔

اس کے بعد مردم شماری کے اختتام پر جب غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہوئے تب بھی مردم شماری کے نتائج کو چیلنج کرنے کا موقع تھا لیکن لیڈرصاحبان خاموش رہے ۔ جب انتخابی حلقہ بندیوں کا بل پارلیمنٹ سے منظور ہو گیا اور سوشل میڈیا پر یہ بات گردش کرنے لگی کہ چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ کوختم کیاجارہا ہے تب سیاست دانوں کے ہوش ٹھکانے لگیں اور پریس کانفرنسز، اخباری بیانات اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ چترال کے کم وبیش دسیوں نام نہاد سیاسی رہنماوں میں سے کسی ایک کو اب بھی انتخابی حلقہ بندیوں سے متعلق ٹیکنیکل امور کا علم نہیں اور نہ ہی ان کو یہ پتہ ہے کہ دراصل حلقہ بندیوں میں تبدیلی ہورہی ہے نہ کہ ایک سیٹ کم کیا جارہا ہے ۔ اگر اس حوالے سے بروقت اقدامات اٹھائے جاتے توشاید کچھ حاصل ہوتا اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور 14جنوری سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے باقاعدہ نئی حلقہ بندیوں کا آغاز بھی کیا ہے، احتجاجی تحریک اور قراردادوں کا کیا نتیجہ برآمد ہوسکتاہے اس پر کچھ کہنا مشکل ہے ۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں