15 جنوری، 2018

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا

 

کسی حرف میں کسی باب میں نہیں آئے گا 
ترا ذکر میری کتاب میں نہیں آئے گا

نہیں جائے گی کسی آنکھ سے کہیں روشنی 
کوئی خواب اس کے عذاب میں نہیں آئے گا

کوئی خود کو صحرا نہیں کرے گا مری طرح 
کوئی خواہشوں کے سراب میں نہیں آئے گا

دل بد گماں ترے موسموں کو نوید ہو 
کوئی خار دست گلاب میں نہیں آئے گا

اسے لاکھ دل سے پکار لو اسے دیکھ لو 
کوئی ایک حرف جواب میں نہیں آئے گا

تری راہ تکتے رہے اگرچہ خبر بھی تھی 
کہ یہ دن بھی تیرے حساب میں نہیں آئے گا 

شاعرہ نوشی گیلانی






کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں