اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

19 جنوری، 2018

کراچی میں پولیس گردی ۔ نقیب محسود جعلی مقابلے میں قتل

 

کراچی میں پولیس گردی ۔  نقیب محسود جعلی مقابلے میں قتل



تحریر: اویس خان

‏زیر نظر تصاویر جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے خوبرو نوجوان نقیب محسود کی ہیں جو 2009 میں شروع کئے گئے آپریشن کی وجہ سے کراچی ہجرت کرگیا تھا۔

اس نوجوان کو پولیس نے9 جنوری کی شب اسکی دکان سے اٹھایا گیا  اور کل اسکی لاش گاڑی سے سڑک کنارے پھینک دی۔ذرائع کے مطابق‏ نقیب اللہ محسود کو کراچی پولیس کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جعلی مقابلے میں مارا ہے ۔ 

ماروائے عدالت قتل پر بھی کوئی قانون ہے ملک میں یا نہیں؟ یہ اکیلا نہیں اس جیسے بہت بے گناہوں کو ماوراےُ عدالت قتل کر دیا جاتا ہے۔ اور ایسا کبھی تو کسی پارٹی کے سربراہ کی طرف سے کہا جاتا ہے اور کبھی کسی پارٹی کے راہنما کا حکم ہوتا ہے ۔

ایک شخص جو کہ اپنے بیٹے کو آرمی آفیسر بنانے کا خواہشمند ہو کیا وہ دہشتگرد ہو سکتا ہے؟

‏کوئی زرداری سے بولے کہ کراچی میں بھی ایک جلوس نکالیں جہاں ہر روز ماؤں کی گودیں سونی ہو رہی ہیں۔ نقیب محسود کا جرم جو بھی تھا ،سزا دینا عدالت کاکام تھا۔شبہہ میں مار دینا کہاں کا انصاف ہے۔ بچوں سے باپ چھیننا کیسادرد ناک ہوتا ہے کوئی ان یتیموں سے پوچھے ۔

‏زرداری صاحب ماڈل ٹاون میں مرنے والوں کے حق میں تو آنسو بہاتے ہیں کیا وه اپنی حکومت سے بهی کہیں گے کہ وه جهوٹے پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے نقیب محسود کو بهی انصاف دے۔؟؟ 

‏سہراب گوٹھ ، سعید آباد، قصبہ، بنارس ، منگو پیر اور میٹروپول سے نقیب محسود کی طرح جب چاہا جس کو اٹھا لیا اور پولیس مقابلے میں مار دیا۔ مسئلے کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ذات برادری، زبان اور قبیلے سے بالا تر ہوکر سرکاری اہل کاروں کے گھروں میں لگی عدالتوں کو ختم کیا جائے ۔

پاکستان کے کسی حصے کا شہری ہمارا بھائی ہے ۔‏ہم کراچی میں پختون نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں. ہم اس معاملے میں مکمل آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ملوث افراد کو جلد از جلد سزا دی جائے.





کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں