اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

12 جنوری، 2018

عائشہ گلالئی نے #زینب سے زیادتی اور قتل کے واقعہ کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرا دیا، ملک کے لیڈر اخلاقی طور پر بد کردار ہیں: عائش گلالئی

 


اسلام آباد (ویب ڈیسک) عائشہ گلا لئی عمران خان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑی ہوئی ہے، کوشش کرتی ہیں کہ ہر منفیa پہلو کے ساتھ خان صاحب کو جوڑا جائے۔ ایسی ہی ایک حرکت انہوں نے زینت سے پیش آنے والے واقعے کے بعد کی ہے۔ 
تحریک انصاف کی منحرف رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے کہا ہے  کہ قصور میں سات سالہ زینب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے اور جس ملک کے سیاسی لیڈر اخلاقی طور پر بدکردار ہوں وہاں قصور جیسے واقعات حیران کن نہیں۔ 

سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی اپنی ایک ویڈیو بیان میں عائشہ گلالئی نے کہا ہے کہ میری اور قوم کی دعائیں ننھی زینب کے والدین کے ساتھ ہیں، اللہ انہیں صبر دے، جب کہ ملک میں ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں اور بدقسمتی سے اکثریت رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ 

قصور واقعہ کو بھی عائشہ گلالئی نے اپنی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں بگاڑ اور بچوں کے زیادتی کے واقعات کو بھی عمران خان سے جوڑ دیا۔ بد کردار لیڈرز سے معاشرہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوجاتا ہے۔ عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ جہاں سیاست دان گالم گلوچ اور خواتین کی عزت نہ کریں، وہاں ایسے واقعات حیران کن نہیں، جب کہ اس ملک میں لوگ اور چند میڈیا چینلز سیاسی لیڈروں کی بدکرداری کا دفاع کرتے ہیں۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ عمران خان کہتا ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مستقبل کی فکر نہیں اور اگر اللہ پر ایمان ہے تو عمران خان نجومیوں کی باتیں کیوں کرتے ہیں، عمران خان نے پیری فقیری اور طلاق متعارف کرائی، عمران خان جتنا جھوٹا اور منافق آدمی نہیں دیکھا۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے والد عمران خان کو دو منٹ میں رلا سکتے ہیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں