جنوری 3, 2018

جوہری ہتھیاروں کا بٹن ہمیشہ میری میز پر ہوتا ہے، امریکہ حملے کا تصور بھی نہ کرے۔ تمام امریکی ریاستیں ہمارے ہتھیاروں کے رینج میں ہیں: شمالی کوریائی رہنما کم جونگ

 


پیونگ یانگ (ٹائمز آف چترال مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر کی دھمکی کے جواب میں شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا بٹن ہمیشہ ان کے ٹیبل پر ہوتا ہے، اور یہ ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ کسی بھی خطرے کی صورت میں وہ فوراً جوہری حملے کریگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری ہتھیار بہت ہی طاقتو ہے اور اس کا بٹن ہمیشہ ان کے میز پر ہوتا ہے۔ 

امریکاہمارے خلاف جنگ کا تصور بھی نہ کرے ورنہ امریکہ کا چپہ چپہ ہمارے ہتھیاروں کی رینج میں ہے۔ بیلسٹک میزائل اور جوہری وارہیڈ کو آپریشنل بنانے پر ہماری ساری توجہ لگی ہوئی ہے۔ 

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے کہا ہے کہ امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا ہے کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت اْن کی میز پر موجود ہوتا ہے۔سالِ نو کے موقع پر ٹی وی پر نئے سال کے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پورا امریکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حقیقت ہے، کوئی دھمکی نہیں۔ گذشتہ سالوں کے دوران جوہری پروگرام اور بار بار میزائل کے تجربے کے سبب شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سیاسی طور پر تنہا کر دیے جانے والے ملک شمالی کوریا نے سال 2017 میں چھ زیر زمین جوہری تجربے کیے اور زیادہ صلاحیت والے میزائل کے تجربے کا مظاہرہ کیا ہے۔ نومبر میں اس نے ہواسانگ-15 کا تجربہ کیا جس نے4475 کلو میٹر کی بلندی پر سفر کیا، جو بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی اونچائی سے دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔ شمالی کوریا نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس نے ایسا جوہری ہتھیار تیار کرلیا ہے جسے کبھی بھی میزائل کے ذریعے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ بہر حال بین الاقوامی سطح پر اس کی اصل صلاحیت پر شک و شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ٹی وی پر قوم سے  خطاب میں کم جونگ ان نے اپنے اسلحے کے پروگرام پر توجہ مرکوز کرنے پر دوبارہ زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کوبڑے پیمانے پر جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے چاہیے اور ان کی تنصیب میں تیزی لانی چاہیے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ جنوبی اور شمالی کوریا ابھی بھی تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں لیکن آنے والے سال میں اس میں کمی آ سکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ 2018 شمالی اور جنوبی دونوں کوریا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ شمالی کوریا اپنی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا سرمائی اولمپکس منعقد کروا رہا ہے۔اس بیان کو پہلے کی بیان بازیوں کے مقابلے میں کم جانگ ان کے لہجے میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں