10 جنوری، 2018

جب اپنی پارٹی کے ارکان ہی ساتھ نہیں تو حکومت بچانے کی کوشش کا کیا فائدہ۔ قائد کے مشورے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری مستعفی ہوگئے

کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے جارہا تھا، انہوں نے اس سے قبل ہی مستعفی ہونے کو ترجیح دی اوراستعفی دے دیا، انکا کہنا ہے کہ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جانے والی تھی  تاہم وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مشورے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری  نے تحریک پیش کئے جانے سے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔ ثناء اللہ زہری نے گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی سے ملاقات کی اور انہیں اپنا استعفی پیش کردیا جو گورنر نے فوراً منظور کرلیا۔ سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ الحمدللہ وزیراعلیٰ بلوچستان مستعفی ہوگئے ہیں۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی گزشتہ روز بلوچستان میں سیاسی بحران کے خاتمے اور منحرف ارکان کو منانے کے لیے ایک روزہ دورے پر کوئٹہ گئے ہوئے تھے۔ جہاں انہوں مسلم لیگ (ن) رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں سیاسی منظر نامے سے آگاہ کیا گیا۔ اسلام آباد پہنچنے کےبعد وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف سے مشاورت کی جس کے بعد انہوں نے نواب ثنا اللہ زہری کو ٹیلیفون کیا اور مشورہ دیا کہ جب اپنی پارٹی کے ارکان ہی ساتھ نہیں تو حکومت بچانے کی کوشش کا فائدہ نہیں، پارٹی کو تقسیم سے بچانے اور ایوان میں ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے مستعفی ہوجائیں ، یہی پارٹی اور ان کے اپنے مفاد میں ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں