23 جنوری، 2018

آغا خان ہیلتھ سروس کے عملہ کا تین دن سے احتجاجی دھرنا۔ ہسپتالوں میں عملہ نہ ہونے اور ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا۔

 

چترال (رپورٹ گل حماد فاروقی) آغا خان ہیلتھ سروس کے عملہ کا تین دنوں سے احتجاجی دھرنا جاری ہے احتجاج اور کام نہ کرنے کی وجہ سے ان کے ہسپتالوں میں مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ چترال بھر میں AKHS کے ان صحت مراکز میں 296 عملہ کام کررہے ہیں جن میں 163 عملہ نے مین آفس چترال میں دھرنا دیا ہے۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے ایک ہیلتھ سٹاف نے بتایا کہ ان کو بغیر گولڈن ہینڈ شیک یا پنشن دینے کے نوکری سے نکال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ان کے انتظامیہ نے کہا تھا کہ 75 لوگوں کو نکال رہے ہیں مگر جب ہم نے دباء ڈالا تو اب دس بیس کے قریب لوگوں کو نکال رہے ہیں۔ جبکہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جس طرح آغا خان رورل سپورٹ پروگرام یا آغا خان ڈیویلمنٹ نیٹ ورکس میں ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک یا پنشن دیکر فارغ کیا گیا ہمارے ساتھ بھی ایسا کیا جائے تو وہ انکاری ہیں اور ہمیں زبردستی نوکری سے نکال رہے ہیں۔

احتجاجی دھرنے میں زیادہ تر خواتین بیٹھی ہوئی تھی جن کا کہنا ہے کہ ان کا کافی سروس ہوا اور اس عمر میں اگر ان کو فارغ کیا جائے تو ان کو کہیں اور ملازمت بھی نہیں ملتی اور یہ فیصلہ سراسر ظلم پر مبنی ہے۔

سماجی کارکن اور مائن ایسوسی ایشن کے صدر محمد نعیم نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ انہوں نے شغور کے مقام پر آغا خان ہیلتھ سروس والوں کو دو ایکڑ زمین مفت عطیہ کیا تھا اس شرط پر کہ وہ ان میں ایک لیڈی اور ایک مرد ڈاکٹر کے علاوہ دیگر عملہ بھی تعینات کریں گے اور عوام کی خدمت کریں گے۔ اس ہسپتال سے آوی، شغور، کریم آباد اور آس پاس یونین کونسلوں سے مریض یہاں آتے تھے اب اگر اس مرکز کو بند کیا گیا تو ان مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرے پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہسپتال کی بندش کی صورت میں وہ اپنے زمین پر دوبارہ قبضہ کرے گا اور اسے کسی اور مقصد کیلئے نہیں دیا جائے گا۔ 

علی شیر خان ولد علی نواز نے بتایا کہ اس نے بونی میں کروئی جنالی کے مقام پر AKHS کو مفت زمین فراہم کی تھی تاکہ اس میں ہسپتال بنائے اور اس کے عوض اس کو معمولی نوکری ملی تھی اب یہ لوگ اس صحت مرکز کو بند کررہے ہیں اور مجھے بھی نوکری سے فارغ کررہے ہیں جبکہ میرا 15 سال ملازمت ہے مگر مجھے بغیر پنشن یا دیگر مراعات دئے بغیر نکال رہے ہیں جس کے حلاف ہم بھر پور انداز میں احتجاج کریں گے اور ان سے اپنا زمین بھی واپس لیں گے۔ 

اس سلسلے میں جب AKHS کے انتظامیہ سے ان کی موقف لینے کی عرض سے ان کے دفتر گئے تو پہلے تو عملہ نے کافی مزاحمت کی کہ اس واقعے کا رپورٹ نہ کیا جائے۔ تاہم بڑی مشکل سے ڈاکٹر ظفر احمد ہیڈ آف کمیونٹی ہیلتھ اینڈ گورنمنٹ ریلیشن اسلام آباد سے رابطہ ہوا ان کا کہنا تھا کہ ہم چترال میں سات صحت کے مراکز بند کروارہے ہیں اور ہم ن عملہ کو پہلے بتایا تھا کہ ان سات مراکز کو بند کیا جارہا ہے جہاں مریضوں کی تعداد نہایت کم ہیں مگر یہ لوگ نہیں مانتے۔

اے کے ایچ ایس کے ڈائریکٹر یوسف شہزاد جو وفاقی حکومت سے بطور انفارمیشن آفیسر ریٹائرڈ ہے ان سے جب ادارے کے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے معزرت کرلی کہ وہ ولنٹئیر ہے یعنی رضاکارانہ طور پر بطور ڈائیریکٹر فرائض انجام دے رہے ہیں 

دوسری طرف متاثرین کا کہنا ہے کہ دفتر والوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے سال ان کے دفتر میں دو قتل ہوئے ایک خاتو ن ماہر نفسیات کو قتل کیا گیا اور ایک مرد نے بھی خودکشی کی تھی جبکہ کچھ عرصہ پہلے بھی ان کے دفتر پر حملہ ہوا تھا جس میں دفتر کے گاڑیوں کو جلایا تھا۔ مظاہرین نے عندیہ دیا کہ اگر ان کا جائز مطالبہ پورا نہیں ہوا یعنی ان کو گولڈن ہینڈ شیک یا پنشن نہیں دیا گیا اور بغیر ان مراعات کے ان کو فارغ کیا گیا تو وہ بھر پور مزاحمت اور سخت احتجاج کریں گے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں