25 جنوری، 2018

پریس کانفرنس میں بد تمیزی پر : مقتول معصوم و بے قصور زینب کا والد اور والدہ شہبازشریف سے شدید ناراض

 

لاہور (ویب ڈیسک) جنسی درندگی کے بعد قتل کی جانے والی  6 سالہ بچی بے قصور #زینب کی والدہ کا کہنا ہے کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس کے دوران ان کے غم اور آنسوؤں پر شرکا ء سے تالیاں بجوائیں، ایک مقامی نیوز چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ ملزم کو تو گرفتار کرلیا گیا لیکن چیف جسٹس آف پاکستان سے میری اپیل ہے کہ آج سے ہی اس کی سزا کا آغاز کرتے ہوئے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں جن سے وہ معصوموں کے گلے دباتا رہا، انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت افسوس ہوا ہے کہ ہم سب اپنی بچی کے غم میں تڑپ رہے ہیں اور آنسو بہا رہے ہیں لیکن پریس کانفرنس میں موجود شرکا نے اسی تڑپ اور آنسوؤں پر تالیاں بجائیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ یہ ملزم گزشتہ ڈھائی برس سے بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات میں ملوث ہے، کیا اس کے ان ڈھائی برسوں پر تالیاں بجائی گئیں؟ بعدِ ازاں زینب کے والد محمد امین نے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا اعترافی بیان سامنے آچکا ہے، ملزم نے 5 دن تک بچی کو اپنے گھر میں رکھا جو ڈھائی سے تین مرلے کا ہے اور اس کا گھر ہے، جس میں 2 کمرے ہیں، محمد امین نے الزام عائد کیا کہ ملزم کے گھر والے سب کچھ جانتے تھے، جنہوں نے ملزم کو چھپائے رکھا، انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نے بچی کو اپنے اتنے چھوٹے گھر میں 5 دن تک رکھا اور بعد میں قتل کیا لیکن گھر میں موجود کسی بھی فرد نے اس کی چیخ نہیں سنی جبکہ گھر تو خواتین میں بھی ہوتی ہیں جو گھر کا سارا کام کرتی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم کے گھر والے بھی اس جرم میں برابر کے ملوث ہیں انہیں بھی اس قتل میں شامل تفتیش کیا جانا چاہیئے، خیال رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران زینب کے والد کی بات کاٹ دی تھی اور اچانک مائک بند کردیا تھا جبکہ وہ اس سے قبل خود صحافیوں کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے، پریس کانفرنس کے دوران ہی مجرموں کو پکڑنے پر وہاں موجود شرکاء نے تالیاں بھی بجائی تھیں، زینب کے والد نے نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب پر زبردستی مائک بند کرنے کا الزام عائد کیا، انہوں نے بتایا کہ وہ جیسے ہی اپنے مطالبات بتانے والے تھے تو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب نے ان کے سامنے موجود دونوں مائیکس بند کردیئے تھے، یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رانا ثنا اللہ مقتولہ کے والد محمد امین سے صرف ملزم کو سرِ عام پھانسی کے مطالبے تک محدود رہنے کا کہہ رہے ہیں جبکہ انہیں دیگر مطالبات کو میڈیا کے سامنے لانے سے روک رہے ہیں، دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پریس کانفرنس میں تالیاں بجانے کے معاملے پر کہا کہ زینب کے قاتل کو قانون کی گرفت میں لانے والے اہلکاروں کے لیے تالیاں بجائی گئیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں