9 جنوری، 2018

چترال : محکمہ مواصلات میں ملازمین کا کئی سالوں سے گھر بیٹھے تنخواہ لینے اور غیر حاضری کا انکشاف

 

محکمہ مواصلات میں ملازمین کا کئی سالوں سے گھر بیٹھے تنخواہ لینے اور غیر حاضری کا انکشاف۔ ڈیوٹی نہ کرنے کے باوجود ان کو باقاعدگی سے تنخواہ مل رہی ہے

چترال(گل حماد فاروقی) باکمال محکمہ لاجواب سروس کا مصداق محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ چترال بھر میں اکثر سڑکوں پر پانی بہتا ہو ا دیکھا جاتا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا روڈ کولی یا دیگر اہلکار کبھی بھی ان سڑکوں کو تباہی سے بچانے، پانی روکنے، نالہ کھولنے یا اپنی ڈیوٹی کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ حال ہی میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو چترال میں انکشاف ہواہے کہ کئی عملہ ایسا ہیں جن کو با اثر لوگوں کی اشیر باد حاصل ہیں اور وہ پچھلے پانچ سالوں سے ڈیوٹی ہی نہیں کرتے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان کو باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے۔

اس سلسلے میں جب محکمے کی موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ایگزیکٹیو انجنیر مقبول اعظم دفتر میں نہیں تھے وہ پشاور گئے تھے تاہم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سب ڈویژنل آفیسر SDO طارق علی نے تصدیق کرلی کہ واقعی میں ایسے کئی سٹاف ہیں جو ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کرتے مگر ان کو باقاعدگی سے تنخواہ ملتی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی تنخواہ ابھی تک کیوں بند نہیں کی گئی اور ان کو نوکری سے فارغ کیوں نہیں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بے بس ہیں۔ 



ان کے مطابق محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے شجاع الدین روڈ کولی برنس کو کئی سالوں سے لاہور میں مقیم ہے اور تنخواہ چترال سے لے رہا ہے۔ اس نے خود کو صدر بنایا ہے اور محکمے کے سیکرٹری لیول تک ان کو رسائی حاصل ہے، اس کے علاوہ رحمت بیگ روڈ کولی سکنہ سینگور، بشیر احمد روڈ کولی سکنہ سینگور، فضل الدین روڈ کولی سکنہ سینگور، رحمت قادر مالی سکنہ دنین، محمد گل، منور شاہ روڈ کولی زرگراندہ ان کو باقاعدہ نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں مگر یہ لوگ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

انہوں نے باقاعدہ ہمارے نمائندے کو ان نوٹس ز کی نقل بھی فراہم کی جن کے تحت فضل الدین روڈ کولی سکنہ سینگور شاہ میراندہ کو نوٹس نمبر 165/4-E مورحہ 14.4.2015، نوٹس نمبر 661/4-E مورحہ 27.11.2016, نوٹس نمبر 1199/4-E مورخہ 5.12.2016 اور نوٹس نمبر 1503/4-E مورخہ 26.10.2017 بھیجے گئے ہیں مگر ابھی تک یہ عملہ نہ تو ڈیوٹی پر آیا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی ہوئی جبکہ ان کو باقاعدگی سے تنخواہ بھی مل رہی ہے۔

سی اینڈ ڈبلیو کے اکاؤنٹس افیسر سے جب پوچھا گیا کہ جب یہ عملہ ڈیوٹی نہیں کرتے تو ان کو تنخواہ کیوں دی جاتی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس نے کئی بار ان کی تنخواہیں بند کی ہیں مگر ایکسئین XEN صاحب کو کوئی سفارش آتا ہے وہ دوبارہ ان کی تنخواہیں کھولتا ہے۔

ان سٹاف کی غیر حاضری کی وجہ سے سڑکیں برباد ہیں ، گرم چشمہ روڈ جو رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کا آبائی حلقہ بھی ہے اس پر نالی کو لوگوں نے بند کیا ہے اور پانی سڑک پر بہتا ہے۔

اس سڑک پر چلنے والے مسافروں کو نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔

فیصل الہی ایک سماجی کارکن ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ اس سڑک پر گزرتا ہے مگر یہاں دن بھر نالے کا گندا پانی سڑک پر بہتا ہے جس سے نہ صرف راہگیروں کو تکلیف کا سامنا ہے بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی تارکولی سڑک بھی اس پانی کی وجہ سے برباد ہورہا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ کولی اور عملہ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

پروفیسر محمد دوست بھی اپنی پڑھائی کے سلسلے میں اسی سڑک سے گزرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ جگہہ جگہہ پانی سڑک پر بہنے سے ایک طرف سڑک تباہ ہورہا ہے تو دوسری طرف مسافروں کو اور راستے پر گزرنے والے خواتین اور بچوں کو نہایت مشکلات اور تکالیف کا سامنا ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کا نوٹس لے اور پانی سڑک پر بہنے سے روکے اور جو اہلکار گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں ان کو فارغ کرکے ان کی جگہہ حق دار لوگوں کو بھرتی کی جائے تاکہ وہ کم از کم مہینے میں ایک بار تو اپنا ڈیوٹی سرانجام دیا کرے۔

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ہیڈ کلرک الطاف حسین نے کہا کہ روڈ کولی کو جنگل میں بٹھائے ہیں جہاں وہ بکریاں پالتے (چھراتے) ہیں اور سڑکیں برباد ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارے گاؤں کا بھی ایک روڈ کولی(فضل الدین) ہے مگر وہ بھی بکریاں پالتا ہے اور ایک دن کیلئے بھی ڈیوٹی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ محکمے کے اہلکاروں نے کلورٹ بند کرکے میرے زمین پر پانی بہایا ہے میں نے کئی بار شکایت بھی کی ہے مگر محکمے کے اہلکار ہونے کے باوجود بھی میری فریاد کسی نے نہیں سنی اور یہ روڈ کولی کبھی ڈیوٹی پر نہیں آئے تاکہ ان نالے اور کلورٹ کو کھول کر پانی اپنے راستے پر بہائے۔

ویلیج کونسل سینگور کے نائب چیئرمین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس میں سراسر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی غلطی ہے ایک تو انہوں نے کلورٹ بہت نیچے بنایا ہے جو بار بار بند ہوتا ہے اور دوسرا ان کا عملہ گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار ہم نے رضاکارانہ طور پر اس نالے کو خود کھولا تھا مگر پھر بند ہوا۔

اسی سڑک پر گزرنے والے ایک راہگیر نے الزام لگایا کہ اس سڑک پر روڈ کولی بھیڑ بکریاں پالتا ہے اور وہ ہر سال ایگزیکٹیو انجنئر کو تحفے میں بکریں بھیجتا ہے جس کی وجہ سے ان کو کھلی چھٹی دی گئی ہے او ر ایک دن کیلئے بھی ڈیوٹی نہیں کرتا۔

اس سلسلے میں جب ایگزیکٹیو انجنیر مقبول اعظم سے پوچھا گیا کہ ان پر الزام ہے کہ وہ روڈ کولی سے رشوت کے طور پر بکریں وصول کرتا ہے اور ان کو کھلی چھٹی دی ہیں او ر ان کے روڈ کولی پجال ہے یعنی بکریاں پالتا ہے تو انہوں نے اس سے انکار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ وہ ان کا حمایت نہیں کرے گا اور ان کے حلاف سختی سے کاروائی کرکے نہ صرف ان کی تنخواہ بند کرے گا بلکہ اگر وہ ڈیوٹی نہیں کرتا تو ان کو نوکری سے بھی فارغ کرکے ان کی جگہہ کوئی غریب ایسے ایماندار شحص کو بھرتی کرے گا جو اپنا فرض منصبی ایمانداری سے نبھالے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا انصاف کے دعویدار حکومت، جگہہ جگہہ کھلی کچہری کرنے والے اور فائر بریگیڈ کے پانی سے وی وی آئی پی کے آمد پر سڑک دھلوانے والے ڈپٹی کمشنر یا محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے ارباب احتیار۔

چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کا جو عملہ کئی سالوں سے گھر بیٹھے تنخواہ لے رہا ہے اور ایک دن بھی ڈیوٹی نہیں کرتے ان کو فوری طور پر فارغ کیا جائے اور ان سے پچھلے پانچ سالوں کا ریکوری بھی کی جائے یعنی جو تنخواہ ان کو دی گئی ہیں وہ ان سے واپس لیا جائے اور ان کو جگہہ ایماندار لوگوں کو بھرتی کی جائے تاکہ وہ ہفتے میں ایک دن تو ان سڑکوں کی حفاظت کیا کرے بصورت دیگر عوام مجبور ہوکر ان کے حلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

واضح رہے کہ سردیوں میں یہ پانی جب سڑک پر جم جاتا ہے تو انتہائی حطرناک ہوتا ہے کیونکہ اس پر کسی بھی وقت گاڑی پھسل کر حادثے کا باعث بنتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں