30 جنوری، 2018

چترال کے بالائی علاقے بریپ میں ایس ایچ او تھانہ مستوج کے جانبدارانہ رویئے کے حلاف احتجاجی جلسہ۔ مذکورہ ایس ایچ او مقتول کے بجائے قاتل کی حمایت میں لگا ہے۔ مظاہرین کا الزام۔

 


چترال کے بالائی علاقے بریپ میں ایس ایچ او تھانہ مستوج کے جانبدارانہ رویئے کے حلاف احتجاجی جلسہ۔ مذکورہ ایس ایچ او مقتول کے بجائے قاتل کی حمایت میں لگا ہے۔ مظاہرین کا الزام۔

چترال (گل حماد فاروقی 30 جنوری 2018) چترال کے بالائی علاقے بریپ میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس کی صدار ت افسر خان کر رہے تھے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمائدین نے کہا کہ 14 اپریل 2017 کو اسلم بیگ کی بیوی مسماۃ ذاکرہ نے اپنے آشنا سید شہاب الامین جو ایک پولیس کانسٹبل ہے کے ساتھ ملک کر اپنے شوہر اسلم بیگ کو نہایت بے دردی سے قتل کیا۔ ذاکرہ نے پہلے اسلم بیگ کو نشاؤر چیز یا کوئی زہر آلود چیز کھانے میں ملاکر اسے کھلایا۔جس کے بعد وہ نشہ ہوا اور اس نے اپنے آشنا شہاب الامین کو رات کے اندھیرے میں بلاکر اسے قتل کیا۔ انہوں نے کہا اسلم بیگ کے موت کے فورً بعد ذاکرہ نے جاکر شہاب سے شادی رچائی۔



جس کے بعد متوفی کے والد نے پولیس سے رجوع کیا مگر رپورٹ درج نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا اور شہاب الامین اور ذاکرہ کے حلاف زیر دفعہ 302/24 ایف آئی آر درج ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن FIR درج ہوا تو تھانہ مستوج کے ایس ایچ او شفیع شفاء نے یہاں آکر اس مقدمے کے چشم گواہوں کو ڈرا دھمکا کر کہا کہ وہ ان کے حلاف پرچہ کاٹے گا اور ان کا جسمانی ریمانڈ بھی لے گا۔ 

مقررین نے کہا کہ چونکہ اسلم بیگ کا قاتل شہاب الامین بھی پولیس کا سپاہی ہے اور ذاکرہ کا والد بھی پولیس کا حوالدار ہے اسلئے متعلقہ ایس ایچ او ا ن کی بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ مقررین نے الزام لگایا کہ ایس ایچ او نے ہمارے گواہوں کا بیان میں ردوبدل کرکے غلط انداز میں عدالت میں پیش کیا جس کی بناء پر ملزم ایک ماہ کے اندر ضمانت پر رہا ہوا۔ حالانکہ ملزم نے پہلے خود کو چترال سے باہر کسی تربیت میں ظاہر کیا تھا مگر جب ان کی کال ڈیٹا ریکارڈCDR نکالا گیا تو ملزم نے ذاکرہ کے ساتھ 302 بار رابطہ کیا تھا اور وقوعہ کے روز بھی وہ ژوپو گاؤں سے رات کے اندھیرے میں موٹر سائکل پر آکر اسلم بیگ کو قتل کیا۔


مقررین نے کہا کہ ملزم شہاب نے دو سول گواہان اور نو پولیس افسران کی موجودگی میں اقبال جرم بھی کیا اور جائے واردات کی نشان دہی بھی کرتے ہوئے سب کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے ذاکرہ کے مدد سے اسلم بیگ کو بے ہوشی کی حالت میں اس کا گلا دباکر مار ڈالا۔ جو بعد میں عدالت میں منکر ہوا۔

مقررین نے کہا کہ ایک طرف پوردوم خان کا جوان بیٹا اسلم بیگ بے دردی سے قتل کیا گیا اور دوسری طرف علاقے کا ایس ایچ او آکر اسے ڈرا دھمکا رہا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس ایچ او ایم پی اے سردار حسین کے کہنے پر مقتول کے ورثاء کو حراساں اور ڈرا رہے ہیں تاکہ وہ راضی نامہ پر مجبور ہوجائے۔ 

انہوں نے کہا کہ اسلم بیگ مرحوم کا والد پردوم خان نہایت غریب آدمی ہے اور ایس ایچ او نے تفتیش کیلئے اسے مجبور کیا کہ وہ پولیس کو گاڑی فراہم کرے جس میں وہ تفتیشی ، اور ملزمان کو بٹھاکر تین دن تک گھومتا رہا اور یوں پرودوم خان نے گاڑی والے کو 35000 روپے ادا کئے جو سراسر نا انصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی پیروی کرنے والے صوبیدار ریٹائرڈ ہدایت خان کو ایس ایچ او نے اس وقت گاڑی سے اتار کر گرفتار کیا جب وہ سوات کے دارالقضاء میں تاریح کی پیشی کیلئے جارہے تھے اور اس کے گھر پر بلا وارنٹ چھاپہ مارکر اپنے ساتھ لائے ہوئے ادھا بوتل شراب برآمد کرویا ۔ اس موقع پر ایس ایچ او نے مقامی گواہان سے سفید کاغذ پر دستحط کروائے جس میں بعد میں دو لیٹر شراب کا ذکر کیا گیا۔ 

مقررین نے الزام لگایا کہ ایس ایچ او نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اس کیس کو حتم کرے ورنہ ان کا خیر نہیں ہوگا اور یہی ہوا کہ اس نے ہدایت خان کو ایک بار پھر گرفتار کرکے 24 گھنٹے کیلئے حبس بے جاء میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلم بیگ کا قاتل آج بھی دھندناتے پھر رہا ہے اور پردوم خا ن کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر اس نے اس کے حلاف مقدمہ حتم نہیں کیا تو اسے بھی مارے گا۔ مقررین نے کہا کہ ایک طرف عمران خان دعویٰ کررہا ہے کہ اس نے کے پی پولیس کو مثالی پولیس بنایا ہے جبکہ دوسری طرف تھانہ مستوج کا ایس ایچ او مجرموں کا پشت پناہی کررہا ہے یہ کہا ں کا انصاف ہے۔ 

انہوں نے ایک متفقہ قراردار کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان نے اپیل کی کہ وہ اس کیس کا از خود نوٹس لے اور مذکورہ ایس ایچ او کے ظلم و ستم سے ان کو نجات دلوادے۔ اور پولیس کے انسپکٹر جنرل کو ہدایت کرے کہ اس ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل کرکے اس تھانے سے باہر بجھوادے۔

احتجاجی جلسہ سے میر رحیم، فرحان نظار، میر عجب خان، نیک مراد دوست نائب ناظم، محمد راضی، امیر سہیل، تاج الدین، صاحبہ بی بی، ناجیدہ بی بی (مقتول کی بہن) پروین بی بی، ہدایت خان، محمد شفیع اور افسر خان نے اظہار حیال کیا۔ 

اس سلسلے میں جب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ منصور امان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور پر ایس ایچ او، تفتیشی افسیر اور غم زدہ خاندان کے افراد کو اپنے دفتر بلایا اور دونوں فریق کو سنا۔ اس موقع پر انہوں نے اسلم بیگ مرحوم کے والد کو تسلی دیا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے ساتھ ہر قسم کے تعان کیلئے تیار ہے۔ ڈی پی او نے ایس پی نورجمال کے زیر نگرانی محکمانہ انکوائری کا بھی حکم دیا اور ان کو ہدایت کی کہ اس کیس کا اور ان کے الزامات کا غیر جانبدارانہ طور پر تحقیقات کرے اگر اس میں کوئی بھی پولیس اہلکار ملوث پایا گیا یا ان کی جانب سے کوئی غیر قانونی حرکت ہوئی ہو تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے غمزدہ حاندان کو یقین دلایا کہ ایس ایچ او یا تفتیشی ٹیم نے ان سے جو 35000 روپے لئے ہیں وہ بھی ان کو واپس دلوائے گا۔اور ملزم شہاب الامین جو کہ ملازمت سے معزول کیا گیا ہے ان کو سختی سے ہدایت کرے گاکہ وہ کبھی بھی مقتول کے والد یا ان کے حاندان کے کسی فرد کو دوبارہ دھمکیا ں نہ دے ۔ 

پرردوم خان اور بریپ کے وفد نے اس موقع پر ڈی پی او کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ جب تک پولیس میں ایسے ایماندار افسر موجود ہیں تو عوا م کبھی مایوس نہیں ہوں گے اور پولیس میں جو چند کالی بھیڑیاں موجود ہیں وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے جو گنتی میں بہت کم ہے مگر سارے محکمے کو بدنام کرتا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں