5 فروری، 2018

وزیراعظم نے گولین گول منصوبے کا افتتاح کردیا، 36 میگاواٹ کے تین ٹربائن میں سے ایک چلا دیا گیا، بجلی گھر سے 36 میگاواٹ چترال کو ملے گی، اپر چترال میں خوشی کی لہر



چترال (ٹائمزآف چترال رپورٹ ابوالحسنین) چترال کے علاقے گولین گول میں، دریائے گولین پر تعمیر ہونے والا 108 میگاواٹ کا بجلی گھر تکمیل کے مراحل میں پہنچ چکا ہے۔ مذکورہ منصوبے پر 2011 میں کام شروع ہوا تھا جو کہ جنوری 2018 میں تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہوگیا۔ 36 میگاواٹ کے تین ٹربائنز پر مشتمل 108 میگاواٹ کا بجلی گھر سعودی فنڈ برائے ترقی، کویت فنڈ برائے عرب اکنامک ڈیولپمنٹ اور آرگنائزیشن آف دی پٹرولیم ایکسپورٹنگ کنڑیز کے تعاون سے بن رہا ہے۔ بجلی گھر کی تعمیر کے لئے تینوں اداروں نے مجموعی طور پر 107 ملین ڈالر کا فنڈ فراہم کیا ہے۔

منصوبے کا افتتاح آج بروز اتوار 4 فروری 2018 کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا۔ جن کے ہمراہ چترال کے ممبر قومی اسمبلی شہزادہ افتخار الدین بھی تھے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ 2013 میں عوام کی جانب سے ن لیگ انتخاب درست ثابت ہوا ہے، نوازشریف کی قیادت میں ن لیگ نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ملک میں بجلی اور گیس کا بحران حل ہوا۔ سڑکیں بنائی گئیں۔ ترقی کی شرح جو گرتی جارہی تھی وہ رک گئی۔ آنے والے الیکشن میں بھی فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے اگر عوام نے دوبارہ ن لیگ کو منتخب کیا تو ترقی کا سفر جارہی رہے گا۔ 

منصوبے کے افتتاح کے موقع وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی لوگوں کے اجتماع سے خطاب کررہے ہیں

آج بروز اتوار کوغذی کے مقام پر واپڈا کی جانب سے تعمیر کئے جانے والے 108 میگاواٹ کے گولن گول ہائیڈرو پاور پلانٹ کے افتتاحی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جب ملک میں جمہوریت کا سلسلہ چلتا رہےگا ملک ترقی کرے گا اور ترقی کے یہ بڑے بڑے منصوبے بنتے رہیں گے جس طرح اس حکومت نے 28 ارب روپے کی لاگت سے لواری ٹنل مکمل کیا جس سے آپ مستفید ہورہے ہیں اور گولین گول پراجیکٹ بھی اربوں روپے کا منصوبہ تھا جوکہ چترال کے عوام کے لئے ہے جس سے بچ جانے والی بجلی کو پاکستان کے دیگر علاقوں کے لوگ بھی استعمال کریں گے اور اس حکومت کو یہ بھی احساس ہے کہ چترال میں ہائیڈروپاؤر کی بے پناہ پوٹنشل موجود ہے اور ملک کی ضرورت کا 50 فیصد سے زیادہ بجلی یہاں سے پید ا ہوسکتی ہےاور پانی کا پوٹنشل اس علاقے کا سرمایہ ہے جس سے اس علاقے کو ترقی ہوگی۔ 

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ گلگت چکدرہ روڈ براستہ چترال سی پیک روٹ حصہ ہے جو کہ ایک عظیم منصوبہ ہے جس کے لئے سرمایہ بھی فراہم کی گئی ہے یہ سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر استعمال ہوگا اور اس کے نتیجے میں چترال اور اسلام آباد کے درمیاں سفر نصف سے کم ہوکر پانچ گھنٹہ رہ جائے گا ۔ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں