22 فروری، 2018

چترال : محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سرکاری خزانے کو ایک ارب سے زیادہ کا نقصان۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے چودہ دن کا نوٹس دیتے ہوئے تما م ریکارڈ اور رپورٹ جمع کرنے کا حکم۔

چترال (گل حماد فاروقی) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چترال کے صدر ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو محکمہ مواصلات کی فنڈ میں غبن اور کام نہ کرنے کے باوجود ٹھیکداروں کو ادائگی کے حلاف درخواست دی تھی جسے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس یحیٰ آفریدی نے رٹ پٹیشن میں تبدیل کیا تھا ۔

اس کیس میں آج ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے چترال کی نمائندگی کرتے ہوئے پیش ہوئے۔ ایک ڈویژن بنچ جس کی سربراہی چیف جسٹس خود کررہے تھے اور جسٹس محمد یونس خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل قیصر علی سے صوبائی حکومت کے بابت استفسار کیا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے چترال میں بونی مستوج سڑک بروقت کیوں تعمیر نہیں کیا۔

اس پر جرح کرتے ہوئے ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے ڈویژن بنچ کو بتایا کہ بونی مستوج سڑک کی تعمیر کیلئے 15.12.2008 میں ٹنڈر ہوا تھا اس وقت اس کا تحمینہ لاگت 491.224 ملین تھا ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے افسران اور ٹھیکدار کے ملی بھگت سے ٹھیکدار کو کام کی تکمیل سے پہلے ادایگی بھی ہوئی مگر کام نہیں ہوا اور بعد میں محکمہ انسداد رشوت ستانی نے بھی اس بابت محکمے کے افسران اور ٹھیکداروں کے حلا ف مقدمہ درج کیا تھا جس میں کچھ رقم واپس بھی لیا گیا تھا مگر پورا رقم واپس نہیں کیا گیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسی روڈ کی دوبارہ ٹنڈر 8 اپریل 2015 کو ہوا اور اب کے بار اس سڑکا تحمینہ لاگت 2323.91 ملین تھی۔ یعنی اس وقت یہ سڑک پچاس کروڑ میں ہوتا تھا اب دو ارب بتیس کروڑ میں ہورہا ہے اور یوں سرکاری خزانے کو ایک ارب سے زیادہ کا رقم کا نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے فاضل عدالت کو بتایا کہ بونی تورکہو روڈ کا ٹنڈر 21.12.2010 کو ہوا تھا جس کا تحمینہ لاگت 279.922 ملین تھی۔ جس میں ٹھیکداروں کو Over Payment بھی ہوا یعنی اخراجات سے زیادہ ادایگی ہوئی تھی مگر کام کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ اسی سڑک کا دوبارہ ٹنڈر 8.4.2015 کو ہوا اور اب کے بار کا اس کا لاگت 1108.420 ملین تھی۔ یعنی اس وقت جو کام 27 کروڑ میں ہونا تھا اب وہ کام ایک ارب سے زیادہ رقم پر ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے سب ڈویژن مستوج دس سال پیچھے چلا گیا۔ فاضل وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سرکاری خزانے کو دو ارب سے زیادہ کا رقم کا نقصان اٹھانا پڑا اور اب بھی کام نہایت سست رفتاری سے جاری ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اگر محکمہ مواصلات بروقت یہ کام کرتا تو نہ صر ف سرکاری خزانے کو دو ارب روپے کا نقصان ہوتا بلکہ عوام کو بھی بروقت سہولت میسر ہوتی۔

ان کے دلائیل سننے کے بعد چیف جسٹس نے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل اور صوبائی حکومت کے نمائندہ کو حکم دیا کہ وہ چودہ دن کے اندر تمام ریکارڈ اور اس سلسلے میں اپنا مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے کہ ٹنڈر ہونے اور پیسے خرچ ہونے کے باوجود ان سڑکوں پر کیوں کام نہیں ہوا۔

دریں اثناء ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ساجد اللہ تریچوی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ بد قسمتی سے بعض ادارے اپنے فرض منصبی میں مجرمانہ حد تک غفلت کررہے ہیں جن میں محکمہ Communication & Works سر فہرست ہے۔ جنہوں نے کاغذوں میں پرواک اور تورکہو روڈ کو تو بلیک ٹا پ ظاہر کیا تھا مگر کام کچھ بھی نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے محکمے کے چھ افسران اور تین ٹھیکداروں نے جیل کی ہوا بھی کھائی۔ انہوں نے اس بات پر نہایت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں تبدیلی کا دعویٰ کررہی ہے مگر ان محکموں میں اتنے بڑے پیمانے پر غبن کے باوجود بھی کسی افسر کے حلاف تادیبی کاروائی نہیں ہوئی اور الٹا ان کو ترقی دی گئی۔انہوں نے متنبہ کیا کہ چترال کے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ان بد عنوانیوں کے حلاف بھر پور انداز میں نہ صرف آواز اٹھائیں گے بلکہ انصاف کے حصول کیلئے عدالت کا دروازہ بھی کٹھکٹائیں گے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں