7 فروری، 2018

اردو لطیفے : مختصر لطیفے : ہنسنا بھی ضروری ہے ☺ ☺

 

ایک شخص: میں نے آج ایک بڑے آدمی کی جیب کاٹی۔

دوسرا: کمال ہے...آخر کیسے؟

پہلا:میں درزی ہوں۔ 

-----☺----
ماں:منے! یہ دروازے پر گندے ہاتھوں کے 
نشانات تمہارے ہیں۔

بیٹا:جی نہیں امی جان! میں تو لات مار کر
 دروازہ کھولتا ہوں۔ 

----☺----

بے وقوف شہری:یہ سامنے جو گائے نظر آرہی ہے، اس کے سینگ کیوں نہیں ہیں۔

دیہاتی:سینگ نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، بعض کے سینگ ٹوٹ جاتے ہیں اور بعض کے ہم کاٹ دیتے ہیں، باقی رہی وہ سامنے والی گائے تو اس کے سینگ اس لیے نہیں ہیں کہ وہ گائے نہیں، گھوڑا ہے۔ 
----☺---

استاد: بھینس کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں۔

شاگرد:سر! یہ تو کوئی بے وقوف بھی بتادے گا۔

استاد: اسی لیے تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔
---☺---

استاد: مشہور لڑائیوں کے متعلق بتاؤ۔

شاگرد:امی نے گھر کی باتیں باہر بتانے سے
 منع کررکھا ہے۔
----☺---

ایک شخص: کیا آپ بتاسکتے ہیں، گائے مفید ہے یا بکری۔

دوسرا: میرے خیال میں بکری مفید ہے، اس لیے کہ گائے نے ایک بار مجھے ٹکر ماری تھی۔ (رانا عبدالرؤف۔ مظفرگڑھ)
----☺---

ایک مرتبہ ایک شخص خلیفہ ہارون الرشید 
کے پاس آیا اور اس سے کہا، مجھے 
حج پر جانا ہے۔ میری امداد کریں۔ خلیفہ نے کہا، 
دیکھو بھائی! اگر تم صاحب نصاب ہو تو 
ضرور حج کرو، ورنہ حج کیوں کرتے ہو۔

یہ سن کر اس نے کہا:

” میں آپ کو بادشاہ سمجھ کر امداد طلب کرنے آیا تھا، مفتی سمجھ کر فتویٰ پوچھنے نہیں۔ 
----☺---

استاد: پانچ پھلوں کے نام بتاؤ۔

شاگرد:تین سیب اور دو مالٹے۔ 
----☺---

ایک شخص: یہ لڑکا تمہارا کیا لگتا ہے۔

دوسرا: یہ میرا دور کا بھائی ہے۔

پہلا: دور کے بھائی سے تمہاری کیا مراد ہے؟

دوسرا: میرے اور اس کے درمیان دس بھائیوں کا فاصلہ ہے۔

----☺----
ایک شخص ایک نجومی کے پاس گیا اور پوچھا:

”یہ بتاؤ!ابھی تھوڑی دیر بعد کیا ہونے والا ہے۔“

اس نے جواب میں کہا کہ مجھے معلوم نہیں، اس شخص نے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا اور بولا:

” یہ ہونے والا تھا۔“ 
---☺---

ایک شخص بہت زیادہ غربت کا شکار ہوگیا۔ 
اس نے اپنی بیوی سے کہا:

” بچوں کو ننھیال بھیج دو اور تم خود اپنی
 والدہ کے ہاں چلی جاؤ۔“
---☺---

مالکہ: (خادمہ سے) تم بےکار بیٹھی بیٹھی 
تھک نہیں جاتیں۔

خادمہ: مجھے آپ کی خاطر تھکنے 
کی پروا نہیں۔ 
----☺---

استاد: منّے تم کل اسکول کیوں نہیں آئے۔

شاگرد:آپ ہی نے تو کہا تھا کہ بغیر سبق 
یاد کیے، اسکول نہ آنا۔ 
---☺---

ایک شاعر کو ہر بات میں یہ کہنے کی عادت تھی، 
نمونہ پیش کیا ہے۔ ایک روز وہ بازار میں 
جارہے تھے، کسی صاحب سے ٹکراگئے۔ وہ صاحب جل کر بولے:

” یہ کیا بدتمیزی ہے۔“

انہوں نے فوراً کہا:

” نمونہ پیش کیا ہے۔“ 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں