22 فروری، 2018

شوشل میڈیا اور ہمارا معاشرہ : تحریر اویس خان

شوشل میڈیا اور ہمارا معاشرہ : تحریر اویس خان      


کل عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر میری نظر ایک پوسٹ پر پڑی  جہاں اس قوم کی بیٹی پر وہ الفظ استعمال ہوئے بیاں کرنا بھی زیب نہیں دیتا ۔شوشل میڈیا پر خواتین کو ہراساں کرنا ناقابل مغافی جرم ہے اس جرم کےخلاف اواز اٹھانا ہم سب کی زمہ داری ہے ۔   یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورت کوعزت و وقار دیکر اسے اس کے بنیادی حقوق فراہم کئے ہیں یہ الگ بات کہ جیسے اسلام کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے ویسے ہی عورت کے حقوق کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج غیر مسلم معاشرے ہماری تہذیب اور عورتوں سے غیر انسانی سلوک پر ہمارا تمسخر اڑا رہے ہیں کیونکہ وہ لوگ ہماری تہذیب کو اپنا کر اپنی خواتین کو احترام دے چکے ہیں اور اسلام جس نے عورت کو گراوٹ اور عدم تحفظ سے اٹھا کر اعلان عام کیا کہ جس کو تم صرف ایک جنس یاا ستعمال کی چیز سمجھتے ہو اس کے قدموں تلے جنت ہے وہ حوا کی بیٹی اسی مذہب کے پیروکاروں کے ہاتھوں آج ذلیل و خوار ہے ستم تو یہ ہے کہ پہلے یہ صورتحال جہالت کی بنیاد پر صرف دیہاتوں تک محدود تھی مگر آج مقدس ایوانوں کے فلور زسے لیکر تہذیب و تمدن یافتہ شہروں تک سر عام عورت کا استحصال جاری ہے اگر آپ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھنے والی یا سیاسی میدانوں میں بولنے والی عورت مضبوط ہے تو یہ آپ کی خام خیا لی ہے کیونکہ خواتین پر جملے کسنے کی روش پرانی ہے اور اب اس پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا بلکہ کھلے عام عورت کے کردار کو ’’مشکوک ‘‘کر دیا جاتا ہے کیونکہ عورت کا کردار بدلے اوراہانت کے طور پربگڑے معاشرے کی نظر میں سب سے آسان ہدف ہے الغرض عورت کہیں بھی محفوظ نہیں ہے مردوں کی اجارہ داری نے عورت کو قابل رحم مخلوق بنا کر رکھ دیا ہے جس کا کام سورج مکھی کی طرح اس کے آگے پیچھے گھومتے رہناہے اور اگر وہ اس کی مرضی کے خلاف ایک لفظ کہے یا قدم اٹھائے تو ’’معمولی تشدد‘‘ کا حق مرد کو دے دیا گیا ہے جبکہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ وآلہ وسلم کی ۱۲ ازدواج مطہرات تھیں جو کہ سب ان کے حسن سلوک سے امہات المومنین قرار پائیں جبکہ اس مہذب معاشرے نے عورتوں سے غیر منصفانہ اورتحکمانہ سلوک روا کر کے ان کی عزت نفس کو مجروح کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ عورت بھی اپنی حدود کو بھولتی جا رہی ہے مرد و زن کی اسی انتہا پسندی نے لرزہ خیز جرائم اور وارداتوں کو جنم دے دیا ہے ۔۔


-------------------------------------

’ٹائمزآف چترال‘ کا کالم نگار کی رائے اور کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کالم نگار اور کمنٹر اپنے الفاظ کا مکمل طور پر خود ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا ’ٹائمزآف چترال‘ کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں