21 فروری، 2018

خواتین کونسلرز کا اہم اجلاس، اپنے حقوق کیلئے بھر پور انداز میں مطالبہ۔ جنگلات کی رائلٹی میں حصہ دینے کی تائد۔

 

چترال(گل حما د فاروقی) ٹاؤن ہال میں چترال بھر کے خواتین کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز نے کی۔ اجلاس میں ضلع ناظم مغفرت شاہ، سی ڈی ایل ڈی کے ڈسٹرکٹ آفیسر فنانس اینڈ پلاننگ، لوکل گورنمنٹ اور دیہی ترقی محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انجنئیر فہیم جلال نے بھی شرکت کرتے ہوئے خواتین کونسلرز کی شکایات اور مطالبات سنی۔

اجلاس میں خواتین کونسلرز کو بریفنگ دی گئی کہ وہ اپنے علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کو ویلیج کونسل ڈیویلپمنٹ پلان یعنی دیہی کونسل ترقیاتی پروگرام میں ضرور شامل کیا کرے تاکہ اس کیلئے بروقت فنڈ محتص کرتے ہوئے اس پر کام شروع کیا جاسکے۔ 

خواتین کونسلرز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ کمیونٹی ڈریون لوکل ڈیویلپمنٹ کے منصوبوں میں بھی اپنے منصوبے شامل کیا کرے اور سی ڈی ایل ڈی فنڈ کیلئے منظم طریقے سے کوشش کرکے اس میں سے اپنا حصہ لیا کرے تاکہ وہ بھی اپنے حلقوں میں چھوٹے موٹے ترقیاتی یا بحال کاری کے کام کرسکے۔

خواتین کونسلرز کو اجلاس کے دوران پلاسٹک بیگ کے نقصانات پر مفصل آگا ہ کیا گیا کہ اس کے کیا نقصانات ہیں اور ان سے اس ضمن میں تعاون کی حواست کی گئی کہ وہ بھی پلاسٹک کے شاپنگ بیگ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرے اور بائیوڈیگریڈایبل تھیلے استعمال کرے جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ندی نالوں کی بندش کا سبب نہیں بنتا۔ اس سلسلے میں بہت پہلے آگاہی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ 

ان کو بتایا کہ گیا کہ دکانداروں کو کافی پہلے بتایا گیا ہے کہ وہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ حتم کرے اور اس کی جگہہ بائیو ڈیگریڈایبل تھیلے استعمال کرے جو اسی قیمت پر دستیاب ہے اور اس سے ماحول کو نقصان بھی نہیں پہنچتا۔ 

ویلیج کونسل ک سطح پر ترقیاتی فنڈ کی تقسیم اور استعمال پر تفصیل سے بات ہوئی جس میں اکثر خواتین کونسلرز کی شکوے شکایت سامنے آئے کہ اس فنڈ میں ان کو یا تو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے یا بہت کم فنڈ ان کو دی جاتی ہے جو بے انصافی ہے۔ اس پر ضلع ناظم مغفرت شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ ان کو پورا حق دیا جائے گا۔ 

جنگلات کی رائلٹی کی مدد میں صوبائی حکومت کی جانب سے خواتین کو بھی حصہ دینے کی خواتین نے خیر مقدم کرتے ہوئے اسے نہایت خوش آئند فیصلہ قراردیا اور یقین دلایا کہ اگر ان کو جنگلات کی مد میں حصہ ملے تو وہ اس سے کافی فائدہ اٹھاسکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض عناصر کی شدید الفاظ میں مذمت کی جو ٹمبر مافیا کی پشت پناہی کرتے ہوئے ان کو حق دینے کے محالفت کرتے ہیں کیونکہ بعض ٹمبر مافیا اس فیصلے کے حلاف میدان میں اترا ہوا ہے۔ 

خواتین کونسلرز کے دیگر مسائل پر بھی بحث ہوئی جس میں زیادہ تر خواتین کونسلروں نے شکایت کی کہ ان کا کوئی علیحدہ دفتر نہیں ہے اور نہ ہی ا ن کوکوئی مشاہرہ دی جاتی ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان خواتین کونسلرز کو بھی علیحدہ دفتر فراہم کی جائے جہاں علاقے کے خواتین آکر پردے میں ان کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا کرے۔ 

اے سی چترال نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ پیر کے روز اپنے دفتر میں ایک اجلاس بلائے جس میں ویلیج کونسل کے ناظمین اور زنانہ کونسلرز بھی موجود ہو تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ ان خواتین کونسلرز کو کس وجہ سے فنڈ نہیں دی جاتی۔

بعض اراکین نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کے پاس اکثر ایسے خواتین آتی ہیں جن کا نیچے اضلاع میں شادی ہوئی ہیں اور ان کو اپنے شوہر نے بے یارومدد گار چھوڑا ہوا ہے اب وہ اپنے میکے میں رہتی ہیں مگر ان کا اور ان کے بچوں کا خرچہ بھی ان کے شوہر نہیں دیتے۔ 

اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز نے ان کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مسائل کو صوبائی حکومت تک پہنچائے گے اور جو مقامی سطح پر حل طلب ہیں ا ن یہاں پر حل کریں گے۔ اجلاس میں ضلع بھر کے تمام خواتین کونسلرز نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں