اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

23 فروری، 2018

چترال میں پہلی مرتبہ خواتین بھی جنگلات کی رائلٹی میں حصہ دار : بی بی سی


کرٹیسی بی بی سی اردو

خیبر پختونخوا حکومت نے جنگلات کی رائلٹی میں پہلی مرتبہ خواتین کو بھی حصہ دار بنا دیا ہے اور اس کا آغاز دور افتادہ ضلع چترال سے کیا گیا ہے۔

چترال کے سب ڈویژن دروش میں اب تک ہر گھر کے صرف مردوں کو جنگلات کی رائلٹی میں حصہ دیا جاتا تھا لیکن اب خواتین کو اس میں شامل کر دیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں یہ اقدام ملاکنڈ میں شروع کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ضلع چترال میں انتظامیہ، محکمہ جنگلات اور مقامی حکومتوں کی خواتین کونسلرز کے درمیان اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جس میں خواتین کو رائلٹی میں حصہ دار بنانے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سوڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگلات سے ہونے والی آمدن میں ساٹھ فیصد مقامی کمیونٹی اور چالیس فیصد حکومت کا حصہ ہوتا ہے۔ مقامی کمیونٹی میں اب تک خاندان کے صرف مرد افراد کو ہی حصہ ملتا تھا خواتین اس میں شامل نہیں تھیں۔



ان کا کہنا تھا کہ صرف مرد حضرات پر مشتمل ایک گھرانے کو لگ بھگ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ملتے تھے، اس میں خواتین شامل نہیں تھیں لیکن اب خواتین کو شامل کرنے کے بعد دوبارہ سے تقسیم کا عمل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ضلعی انتظامیہ کے پاس تقریباً ساڑھے گیارہ کروڑ روپے پڑے ہیں جو ان لوگوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔

سب ڈویژن دروش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سرکاری افسر سیدگل کیلاش نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خواتین کی بہتری کے لیے حکومت کا بڑا فیصلہ ہے اور اس سے مقامی لوگوں کو فائدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ایسی خواتین ہیں جن کے شوہر اور بیٹے نہیں ہیں، اس لیے وہ اس حق سے محروم تھیں جبکہ وہ خاندان جن کے ہاں بیٹیاں ہیں وہ بھی یہ حق حاصل نہیں کر سکتے تھے لیکن اب ایسے خاندان بھی اس سے متفید ہو سکیں گے۔

مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے بتایا کہ دروش کے علاقے میں گھنے جنگلات ہیں جو بروغل تک پھیلے ہوئے ہیں اور حکومت کے اس فیصلے سے جنگلات محفوظ ہوں گے اور مقامی آبادی کو فائدہ ہوگا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق ماضی میں کمیٹی لوگوں میں رقم تقسیم کرتی تھی جس سے مقامی لوگوں تک ان کا حق نہیں پہنچ پاتا تھا۔

یہ فیصلہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے دور افتادہ علاقوں میں آباد لوگوں کو ان کا حق پہنچانے کے لیے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایسے علاقے ہیں جہاں سے گیس اور تیل کے پیدا ہوتی ہیں لیکن اب تک ان علاقوں کے بارے میں اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں