2 مارچ، 2018

بریب: اسلم بیگ قتل کی انکوائری رپورٹ سامنے آگئی، ایس ایچ او مستوج پر اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات غلط ثابت ہوئے

 



چترال (نمائندہ ٹائمزآف چترال) گزشتہ سال قتل ہونے والے اسلم بیگ کے ورثا نے ایس ایچ او تھانہ مستوج محمد شافی شفا پر الزام لگایا تھا کہ وہ قاتل کی جانب داری کر رہے ہیں اور جان بوجھ کر اسلم کے قتل کا ایف آئی درج نہیں کر رہے۔ ان الزامات کی انکوائری کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ انکوائری کے بعد شافی شفا پر لگائے گئے مقتول کے اہل خانہ کے الزامات غلط ثابت ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ نے قتل کا ایف آر درج کرنے میں تاخیر کردی۔ 

اسلم بیگ گزشتہ سال اپریل میں اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا تھا، جس کے بعد اس کی اہلیہ نے متوفی کے دادا کے سامنے ان کی وفات کو ہارٹ اٹیک قراردیا تھا جبکہ متوفی کا والد ان دنوں روزگار کے سلسلے میں اسلام آباد میں تھے۔ متوفی کو اس وقت پولیس کو اطلاع دیئے بغیر دفن کیا گیا تھا جبکہ اہل خانہ کے مطابق متوفی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔ 

چھ ماہ بعد یعنی اکتوبر 2017 میں متوفی کے اہل خانہ نے اس کی بیوی ذاکرہ پر قتل کا شبہ ظاہر کرکے ایف آئی آر درج کرنے مستوج تھانہ گئے۔ انہوں نے شک تب کیا جب متوفی کی بیوی ذاکرہ ان کے گھر آنے جانے والے پولیس کانسٹیبل شہاب الامین سے شادی کرلی، اہل خانہ کے مطابق جب انہوں نے دونوں کے کال ریکارڈز چیک کئے تو دونوں کے پرانے تعلقات سامنے آگئے تھے جس پر انہوں نے ان پر شبہ ظاہر کرکے ایف آئی آر کے لئے رجوع کیا تھا۔ پولیس کچھ دن تاخیر کے بعد مقدمہ درج کرلیا اور 22 اکتوبر کو ذاکرہ کو شہاب کے گھرواقع راغ گاؤں سے گرفتار کرلیا اور بعد ازاں شہاب کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ کچھ دن حوالات میں رہنے کے بعد مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا۔ جس کے بعد اہل خانہ نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ اسٹیشن ہاؤس آفیسر نے تحقیقات میں کوتاہی کی جس کی وجہ سے ملزمان ضمانت پر رہا ہوئے، انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ پولیس مقتول کے والد سے یہ کہہ کر کہ تحقیقات کے دوران پرائیویٹ گاڑی استعمال ہورہی ہے تو وہ 35 ہزار روپے ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں: چترال کے بالائی علاقے بریپ میں ایس ایچ او تھانہ مستوج کے جانبدارانہ رویئے کے حلاف احتجاجی جلسہ۔ مذکورہ ایس ایچ او مقتول کے بجائے قاتل کی حمایت میں لگا ہے۔ مظاہرین کا الزام۔

جس کے بعد پولیس حکام نے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، اور تحقیقات کے فرائض ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے انجام دیئے۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس کے دستخط شدہ رپورٹ کے مطابق 11 نومبر 2017 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال احمد افتخار نے دونوں ملزمان کو ایف آئی آر میں تاخیر، براہ راست شواہد نہ ہونے کی وجہ سے ضمانت پر رہا کردیا۔

رپورٹ میں ایس ایچ او کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بھی غلط قرار دے گیا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں