22 مارچ، 2018

چترال میں بڑھتی ہوئی خودکشیاں - ایک اور نوجوان لڑکی اور لڑکے نے خودکشی کرلی

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے میں محتلف مقامات پر ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے خودکشی کرلی۔ چترال پولیس کے مطابق 14 سالہ طیبہ دختر سید غفار سکنہ بونی جو 19 مارچ کو گھر سے لاپتہ ہوئی تھی جس کے بارے میں مقامی تھانہ میں رپورٹ بھی کی گئی تھی تاہم آج اس کی لاش جونالی کوچ کے مقام پر دریائے چترال سے برآمد ہوئی۔ سب ڈویژنل پولیس آفیسر بونی محمد زمان خان نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ طیبہ بی بی چند دن قبل گھر سے نکلی تھی کیونکہ اس کے مطابق اس پر سوتیلی ماں ظلم کررہی تھی اور کوراغ کے مقام پر ایک استانی کے گھر میں پناہ لی تھی۔ پولیس نے اسے استانی کے گھر سے برآمد کرکے دوبارہ اپنے ماں کے حوالہ کیا۔ مگر اس پر ظلم کا سلسلہ بدستور جاری رہا ۔ طیبہ بی بی 19 مارچ کو ایک بار پھر گھر سے لاپتہ ہوئی تھی مگر آج اس کی لاش دریا سے برآمد ہوئی اس کی لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لائی گئی جہاں اس کی پوسٹ مارٹم کی گئی ۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ کا نتیجہ ملنے کے بعد اس بات کی تصدیق کی جاسکے گی کہ اس پر کوئی جسمانی تشدد ہوا تھا یا نہیں۔ 


دوسرا واقعہ چترال کے دور آفتادہ علاقہ وادی لاسپور کے بروک گاؤ ں میں پیش آیا۔ جہاں محمد حسین ولد زمرد خان نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی۔ پولیس کے مطابق خودکشی کرنے سے پہلے اس نے موبائل میں ایک ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کیا ہے جس میں اس نے اس بات پر نہایت مایوسی کا اظہار کیا تھا کہ وہ غربت کی وجہ سے میٹرک کے بعد آگے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہے ۔ پولیس ان دونوں واقعات میں تفتیش کررہی ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے چھ ماہ میں سب ڈویژن مستوج میں خوکشیوں کا یہ اٹھارواں 18 واقعہ ہے جس میں زیادہ تر نوجوان خواتین نے خودکشی کی ہیں۔ چترال میں خواتین میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی رحجان میں عوام میں کافی تشویش پائی جاتی ہے مگر ابھی تک کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے نے اس بابت کوئی حاطر خواہ تحقیقات نہیں کی ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ اور زیادہ تر خواتین اتنی بڑی تعداد میں کیوں خودکشی کررہی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں