9 مارچ، 2018

عالمی یومِ خواتین : نچلی سطح پر تبدیلی لانے والی خواتین کی کاوشوں کے اعتراف میں ساتویں امت الرقیب ایوارڈز کا انعقاد


اسلام آباد: پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے ملک بھر میںاپنے جاری مختلف ترقیاتی پروگرامز میں شامل خواتین کی حوصلہ افزائی کے لئے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ساتویں امتلرقیب ایوارڈز کا انعقاد کیا۔ رواں سال یہ ایوارڈ ڈیرہ بگٹی کی نازیہ بی بی، نوشہرہ کی روبینہ بی بی، باجوڑ ایجنسی کی ربحت جمیل، ٹھٹھہ کی صائمہ بی بی، راجن پور کی کرن ارشاد، آزاد کشمیر کی ناہید اختر اور ڈیرہ اسماعیل خان کی نورین اختر کو خواتین کے لئے بہترین انداز سے کام کرنے پر دیا گیا۔ یہ خواتین نہ صرف اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لارہی ہیں بلکہ جن علاقوں سے یہ تعلق رکھتی ہیں وہاں بھی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آرہی ہے۔ اس موقع پر ایوارڈ وصول کرنے والی خواتین نے اپنے حالات سے آگاہ کیا اور اور پی پی اے ایف کی جانب سے کی جانے والی مثبت کوششوں پر روشنی ڈالی۔

یہ تمام خواتین ملک کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے جرات کے ساتھ مشکلات کا سامنے کیا اور اپنے علاقوں کیلئے مثال بن گئیں۔ساتویں امتلرقیب ایوارڈ میں پاکستان کے پسماندہ اضلاع سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کو شامل کیا گیا ہے جو وزیراعظم کی بلا سود سے قرضہ اسکیم، اطالوی حکومت کے مالی تعاون سے تخفیف غربت کے پروگرام جبکہ جرمن حکومت کے ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو (KfW) کے لائیولی ہڈ سپورٹ اینڈ پروموشن آف اسمال کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام (LACIP) اور ہائیڈرو پاور و قابل تجدید توانائی کے پروگرام کے تحت پی پی اے ایف کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔ 

خواتین کی شمولیت کی بنیادی اقدار کے ساتھ رواں سال پی پی اے ایف نے سیالکوٹ کی ماریہ قریشی اور پشاور کی افشاں آفریدی کو جسمانی معذوری کے باوجود غیرمعمولی کارکردگی پیش کرنے پر ایوارڈز پیش کیا ۔ یہ دونوں خواتین جسمانی طور پر معذور ہیں لیکن زندگی کے چیلنجز کا عزم اور ہمت کے ساتھ سامنا کررہی ہیں۔ وہ ایسے کام کررہی ہیں جس سے لوگوں میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق آگہی پھیلے تاکہ معاشرے کے اس نظرانداز طبقے کو بھی احساس ہو کہ انہیں معاشرے میں قبول کیا جاتا ہے اور وہ معاشرے میں تعمیری کردار کی ادائیگی کے لئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں، ہنر سیکھ سکیں ہیں اور خود تعلیم حاصل کرسکیں ۔ 

اس موقع پر خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کی رکن اور ٹوٹل فٹ بال یوتھ اکیڈمی کی ہیڈ کوچ اسمارہ کیانی مہمان خصوصی تھیں۔ انہوں نے کہا، 
"خواتین اگر کوئی ہدف طے کرلیں تو وہ کوئی بھی کام کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ لیکن ان کے لئے مواقع ہونا ضروری ہے۔ پی پی اے ایف جیسے ادارے اس خلائ خلاءکو بھرنے کی کوشش کررہے ہیں اور میں پی پی اے ایف کے اقدام کو سراہتی ہوں کہ وہ ان شاندار خواتین کی خدمات کا اعتراف کرکے ان کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں کامیابی کی مزید بہت سی داستانیں رقم ہوں گی ۔" 

پی پی اے ایف کی چیئرپرسن روشن خورشید بھروچہ نے کہا، "پی پی اے ایف ان خواتین کی خدمات کے اعتراف پر فخر کرتا ہے۔ اپنی زندگیوں اور اپنے علاقے میں نمایاں فرق لانے کے لئے ان خواتین کا جذبہ حقیقی طور پر قابل ذکر ہے۔ ہمارے لئے ان خواتین کے واقعات جاننا حیران کن ہے جو مختلف اقسام کی مشکلات پر قابو پاتی ہیں اور نہ صرف اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کا انتظام کرتی ہیں بلکہ دیگر افراد کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلی لاتی ہیں۔ یہ خواتین ہمارے معاشرے کی حقیقی ہیروز ہیں اور یہ ہر طرح کی تعریف کی مستحق ہیں۔" انہوں نے ملک کے دور دراز علاقوں کے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لئے منفردہ طریقہ اختیار کرنے کی غرض سے پی پی اے ایف کے خصوصی ترقیاتی کام اور اسے گلوبل ڈائیورسٹی اینڈ انکلوشن ایوارڈ 2018 جیتنے کو سراہا ۔ 

پی پی اے ایف کی سینئر گروپ ہیڈ ،گرانٹس آپریشنز، سیمی کمال نے کہا، "پی پی اے ایف اس بات پر بھرپور یقین رکھتی ہے کہ خواتین کو طاقتور بنانے کے لئے سرمایہ کاری کی جائے۔ درحقیقت ان خواتین کے شاندار کاموں کا اعتراف ایک اعزاز ہے جو آج امتلرقیب ایوارڈز وصول کررہی ہیں۔ یہ طاقتور خواتین اور انکی کامیابیوں کی کہانیاں واقعی متاثرکن ہیں۔ " 

پی پی اے ایف کی جینڈر کمیٹی سال 2012میں اسکے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ کی قیادت میں قائم ہوئی اور انہوں نے ادارے کے اندر تبدیلی لانے اور اسکے کام کو آگے بڑھانے کا آغاز کیا ۔ انہوں نے درست طور پر کہا، "بااختیار عورت خواتین کی ترقی کے ذریعے ہی سامنے آتی ہے جس میں وہ اپنا علم، وسائل اور خودمختاری کو بروئے کار لا کر اپنے ارد گرد کی زندگیوں کو تبدیل کرتی ہے ۔ اگر لڑکیوں اور خواتین کو ترقی کے اسی طرح مساوی مواقع دیئے جائیں جس طرح لڑکوں اور مردوں کو حاصل ہیں تو پھر ہمارے علاقوں اور ملک میں بڑی تبدیلی آئے گی۔"

پی پی اے ایف ہر سال خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے امتلرقیب ایوارڈز کا انعقاد کرتا ہے۔ یہ ایوارڈ پی پی اے ایف کی سماجی کارکن امتلرقیب کے اعزاز میں قائم کیا گیا ہے جنہیں 24 جنوری 2011 کو بلوچستان کے علاقے مستونگ میں مرکز صحت عامہ سے واپس آتے ہوئے دہشت گردوں نے قتل کردیا۔ یہ ایوارڈ بہادر امت الرقیب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور ان خواتین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو دیہی علاقوں میں معاشرتی ترقی کے لئے پائیدار کاوشوں سے تبدیلی لانے کی خواہاں ہیں۔ ان کے بھرپور تعاون کے باعث بلوچستان کے ناقابل رسائی علاقوں میں پیدائش کے روایتی طریقوں سے پیش آنے والی شرح اموات نمایاں طور پر کم ہوئیں۔

ہر سال اپنے خاندان اور علاقے کی سطح پر مثبت تبدیلی لانے کے لئے مختلف کاروباری خواتین، سماجی کارکنان اور جدت میں مہارت کی خواہاں خواتین کو انکے کاموں کی بنیاد پر منتخب کیا جاتا ہے۔ پی پی اے ایف نے سال 2012میں پہلے امت الرقیب ایوارڈ کا انعقاد کیا۔ گزشتہ چھ سال کے دوران اب تک 40 خواتین اور دو مردوں کو امت الرقیب ایوارڈ کا اعزاز ملا ہے۔ 

پی پی اے ایف اپنی شراکتی تنظیموں کے ذریعے پاکستان کے انتہائی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تغیر پذیر حالت کو سامنے لانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو بنیادی صحت عامہ، لڑکیوں کی تعلیم، آمدن و اپنا کاروبار، پانی، توانائی، انفراسٹرکچر، ماحولیاتی تبدیلی، ماحولیات اور ہنگامی آفات سے تیاری کے شعبوں میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتی ہیں۔ 

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) ملک میں کمیونٹی کی بنیاد پر ترقی لانے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ پی پی اے ایف ملک بھر میں سب سے زیادہ غریب اور پسماندہ دیہی طبقات کو وسیع اقسام کی مالیاتی اور غیرمالیاتی خدمات نجی شعبے کے طور پر فراہم کرتا ہے۔ پی پی اے ایف اپنی شراکتی تنظیموں اور کمیونٹی اداروں کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کے لئے سرمایہ کاری سے غربت کے شکار گھرانوں کی نشاندہی کرتی ہے اور پائیدار آمدن کے کے لئے مواقع فراہم کرتی ہے۔ 

پی پی اے ایف کا مقصد یہ ہے کہ غریبوں کے نمائندہ، شفاف اور جوابدہ ادارے قائم کئے جائیں۔ اس پروگرام کے ڈیزائن میں خواتین کا کردار نتائج اور اثرات کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ یہ مالی تعاون کے ذریعے خواتین کی آمدن میں اضافے، اثاثوں کی منتقلی اور بلاسود قرضوں کی شکل میں قابل ذکر رسائی اور مواقع فراہم کرتا ہے ۔ 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں