11 مارچ، 2018

چترال کی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں تقریب کا اہتمام۔ عوامی خدمات سرانجام دینے والی خواتین کو خراچ عقیدت پیش کی گئی

 



چترال (گل حما د فاروقی) خواتین کو حراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں ایک سیمنار منعقد ہوا۔ اس موقع پر ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ مہمان حصوصی تھے جبکہ سیمنار کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین کررہے تھے ۔ چترال کی پہلی خاتون ڈسٹرکٹ آفسیر سوشل ویلفئیر، سپیشل ایجوکیشن اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے خواتین کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوںنے کہا کہ چترال میں نہ صرف تعلیم اور دیگر بنیادی حقوق کا حق حاصل ہے بلکہ خواتین اپنی مرضی سے ووٹ کا استعمال بھی کرسکتی ہے۔

انہوںنے کہا کہ چترال کی خواتین سماجی کاموں کے علاوہ سیاست میں بھی حصہ لے رہی ہیں اور ہر میدا ن میں مردوں کے شانہ بشانہ ملک و قوم کی خدمت کرتی ہیں۔

دیگر مقررین نے چترال میں لڑکیوں کی کم عمری میں شادی اور خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کیا۔سیمنار کے دوران ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔ متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ضلع بھر ک تمام محکموں میں خواتین عملہ کو بھی بھرتی کی جائے تاکہ ان دفاتر یا اداروں میں آنے والی خواتین کی خدمت کرسکے اور ان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال سے تعلق رکھنے والے ان خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے جو چترال کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اعلےٰ عہدوں پر خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ان تمام دفاتر میں دے کئر سنٹر اور علیحدہ واش روم قائم کئے جائے جہاں خواتین ملازمت کررہی ہیں۔ چترال میں خواتین کی بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی رحجان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں اعلےٰ سطح پر تحقیقات کی جائے تاکہ اس کا وجہ معلوم کی جاسکے کہ یہاں کے خواتین معمولی تنازعات پر بھی خودکشی کیوں کرتی ہیں۔

قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ تمام سرکاری اورغیر سرکاری اداروں میں پالیسی سازی کے وقت خواتین کو بھی منصوبہ بندی اور پالیسی بناتے وقت شامل کیا جائے تاکہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔ چترال میں خواتین کا سکول، کالج، ہسپتال اور دفاتر جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کا بہت مسئلہ ہے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے خواتین کیلئے علیحدہ ٹرانسپورٹ کا بندوبست کی جائے جہاں وہ عزت کے ساتھ اپنے اپنے منزل مقصود تک پہنچ سکے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے چترال کی پہلی خاتون آفیسر سوشل ویلفئیر نصرت جبین کو بہترین حسن کارکردگی اور اعلےٰ عہدے پر تعیناتی کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔
سیمنار میں اقلیتی کیلاش خواتین کے علاوہ کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں