19 اپریل، 2018

علاقائی تقریبات کو چار چاند لگانے والے قدیم مقابلوں میں سے ایک ’سیاہ کمان سے نشانہ بازی‘ یہ بندوق پانچ سوسال پرانی تاریخ رکھتا ہے: رپورٹ گل حماد فاروقی

سیاہ کمان کا مقابلہ یعنی شوٹنگ کمپٹیشن۔ سینکڑوں سال پرانے بندوقوں سے لیس ، رویتی لباس پہنے ہوئے چترال میں سیاہ کمان کا مقابلہ نہایت مقبول ہے۔ مگر ابھی تک اس کھیل کو سرکاری پذیرائی نہیں ملی۔



چترال (گل حماد فاروقی)  پانچ سو سال پرانے بندوقوں میں بارود ڈال کر لوہے کے چھرے بطور گولی رکھ کر اسے آگ کے پُلتے سے جلاتے ہوئے نشانہ باز ی کی جاتی ہے اس کھیل کو مقامی زبان میں سیاہ کمان کا مقابلہ کہا جاتا ہے۔جسے انگریزی میں شوٹنگ کمپٹیشن بھی کہتے ہیں۔ سیاہ کمان کا مقابلہ صرف چترال کے بالائی علاقوں میں ہوتا ہے۔ 

حسین ذرین اس کھیل کو رضاکارانہ طور پر اس کھیل میں ہر سال حصہ لے رہا ہے 2013 میں یہ اس کھیل کا ڈسٹرکٹ ونر بھی رہ چکا ہے اس کے پاس پرانا تلوار بھی ہے اور جانور کے چمڑے سے بنے ہوئے جوتا بھی پاؤں میں پہنا ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی حصوصی طور پر وہ سیاہ کمان کے مقابلہ میں حصہ لینے کیلئے چترالی چوغہ بھی پہنتا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا اصل ثقافت ہے ہمارے بزرگ جب آج سے پانچ سو سال پہلے شکار کیلئے جایا کرتے تھے تو یہ لباس پہن کر اس بندوق سے شکار کیا کرتے تھے ان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس جو بندوق ہے وہ تین سو سال پرانا ہے جو اس کے پر دادا درانی نے بنایا تھا۔ ان کا شکوہ ہے کہ چترال میں فٹ بال، کرکٹ، پولو ، ہاکی کو اہمیت تو دی جاتی ہے جو ملک کے ہر جگہہ کھیلا جاتا ہے مگر سیاہ کمان کا مقابلہ صرف اور صرف چترال کی حصوصیت ہے اور صرف یہاں کھیلا جاتا ہے مگر آج تک اس کو سرکار کی طرف سے پذیرا ئی نہیں ملی۔



ان کا کہنا ہے کہ سب شہزادہ سکندر الملک تحصیل ناظم تھے تو انہوں نے مجھے ایوارڈ دیا تھا اور بریگیڈئیر نعیم اقبال جو یہاں چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ تھے انہوں نے میر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے نقد انعام بھی دیا تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سیاہ کمان کے مقابلہ میں حصہ لینے کیلئے یہ روایتی لباس پہنا پڑتا ہے اور اس میں ہوتا یوں ہے کہ اس بندوق میں پہلے لوہے کے چھرے یا گولی نما سکہ ڈالا جاتا ہے اس کے بعد اس میں بارود ڈالا جاتا ہے اور ماجس سے ایک رسی کو جلاکر اس کے محصوص حصہ کے اوپر رکھا جاتا ہے جونہی بارود گرم ہوتا ہے اس میں دھماکہ سا ہوتا ہے اور اس دھماکے سے وہ گولہ باہر کی طرف نکلتا ہے جو سیدھا جاکر اپنے نشانے پر پڑتا ہے اس میں پچاس میٹر اور سو میٹر کے فاصلے تک نشانہ مارا جاتا ہے ۔ 

غلام نبی جو بونی آوی لشٹ کا باشندہ ہے اس کا کہنا ہے کہ اس سیاہ کمان سے ہم نے ماضی میں اپنے ملک کا دفاع کیا ہے مگر حکومت پاکستان نے پچھلے چالیس سال سے اس پر پابندی لگادی ہے جو ہم نے رضاکارانہ طور پر جمع کی مگر اس کے بدلے ہمیں کوئی مراعات نہیں ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے آباو اجداء نے اسی سیاہ کمان سے سکھردو کو بھی فتح کیا ہے اور ریاست چترال کی طرف سے ارندو کے مقام پر افغان فورس کا مقابلہ کیا ہے شاہ سلیم بھی بدخشان سے آئے ہوئے فوجیوں کا مقابلہ اسی سیاہ کمان سے کیا گیا ہے اور اسی طرح بروغل میں واخان اور تاجکستان وغیرہ سے آنے والے حملہ آؤروں کو اس کی مدد سے پسپا کیا ہے۔ 

عبد الباقی کا عمر 70 سال ہے جو پچھلے چالیس سالوں سے سیاہ کمان کے مقابلہ میں حصہ لے رہا ہے اور اس کھیل کو فروغ دے رہاہے ۔ ان کھلاڑیوں کا شکوہ ہے کہ پہلے جب چترال کے انتظامیہ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ رضاکارانہ طورپر اس کھیل کو یہاں آکر کھیلتے اور اس مقابلہ میں حصہ لیتے ہوئے سیاحوں کو محظوظ کراتے مگر اس سال انتظامیہ کے پاس کافی فنڈ آیا ہوا ہے مگر اس کے باوجود بھی نہ تو ان کی کوئی حوصلہ افزائی کی گئی نہ کوئی نقد انعام دیا گیا اور نہ ہی ان کے ساتھ مالی مدد کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بندوق کی دیکھ بال بھی نہایت مشکل ہے مگر حکومت کی طر ف سے اس کی مرمت کیلئے بھی ان کو کوئی فنڈ نہیں دی جاتی۔ سیاہ کمان چترال کا نہایت مقبول اور پسندیدہ کھیل ہے جو اب حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جارہا ہے اور مستقبل میں اس کے قصے صرف کتابوں میں ملیں گے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں