اپریل 17, 2018

چترال بازار نصب شمشی بجلی سے روشن ہونے والی سٹڑیٹ لائٹس کی ادائیگی نہیں ہوئی، جب ہوگی تو مرمت کردی جائینگی: ٹھیکیدار مغل باز

چترال بازار میں شمسی توانائی سے چلنے والے سٹریٹ لائٹ کی ادایگی بھی تک مجھے نہیں ہوئی۔ جب ادایگی مکمل ہوگی تو سٹریٹ لائٹ کی مرمت بھی کی جائے گی۔ ٹھیکدار مغل باز۔



چترال (گل حماد فاروقی) گزشتہ روز سوشل میڈیا میں چترال بازار کے اندر لگائے گئے شمسی توانائی سے چلنے والے سٹریٹ لائٹ پر شدید تنقید کی گئی کہ یہ 90 لاکھ روپے کا فنڈ تھا او ر چھ ماہ میں یہ سٹریٹ لائٹ حراب ہوئے اور اس میں قومی احتساب بیور و اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے۔ اس کے ردعمل کے طو ر پر اس منصوبے کے ٹھیکدار مغل باز نے اپنے ایک تحریری بیان میں موقف دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس کام کیلئے تحصیل میونسپل آفیسر TMO کی طرف سے ورک آرڈر 4 جون 2015 کو دیا گیا تھا۔مگر تاجر یونین اور رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتحار کے درمیان چھ ماہ تک اس پر جھگڑا چلتا رہا۔ ایم این اے اس سکیم کو حتم کرکے دوسرے علاقوں میں دیہات میں چھوٹے چھوٹے سکیم دینا چاہتا تھا۔ مگر تاجر یونین کا موقف تھا کہ یہ فنڈ بازار کیلئے آیا ہے اور یہ بازار ہی میں حرچ ہونا چاہئے ۔ مغل باز کے مطابق اس وقت کے تاجر یونین کے صدر حبیب حسین مغل نے اس سلسلے میں ایک پریس کانفرنس بھی کیا تھا۔

مغل باز کے مطابق ا س کے بعد Layout کا مرحلہ آیا تو مجھے محتلف جگہوں کی نشاندہی کرائی گئی جس میں بنیادیں کھودی گئی اور سٹریٹ لائٹ گورنر کاٹیج روڈ، چیو پل ، بازار، چترال سکاؤٹس آفیسر میس روڈ پر مشتمل تھے جس میں یہ لگانے تھے۔ مغل باز کے مطابق جب کھدائی اور بنیادوں کا کام مکمل ہوا تو محکمے کی طرف سے بعض مقامات کی تبدیلی کرائی گئی جبکہ کچھ کام بائی پاس روڈ کی ضد میں آئے۔ جن میں اکثر کھنبوں کو بازار کی تجاوزات ہٹانے کے نذر ہوگئے۔ مغل باز کے مطابق 80% پول کیلئے دوبارہ کام شروع کرنا پڑا جس پر مغل باز کے مطابق اس کے مزید آٹھ لاکھ روپے اضافی خرچہ آیا۔ مغل باز کا کہنا ہے کہ اس کیلئے اس نے ٹی ایم او کو درخواست بھی دی ہے جس کی نقل موجود ہے۔ مغل باز نے مزید بتایا کہ انہوں نے میرے کام کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی تو میں نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی کہ جب تک اس کو یہ ادایگی نہیں ہوتی وہ یہ کام مکمل نہیں کرے گا۔ مغل باز کے مطابق 25.3.2016 تک بازار، اسامہ وڑائچ پارک، آئی ایس آئی آفس، چھاؤنی روڈ اور آفیسرز کالونی دنین میں بھی یہ پول لگائے گئے اور ان کو قابل استعمال بنایا گیا۔

مغل باز کے مطابق اس سلسلے میں سابقہ اسسٹنٹ کمشنر عبد الاکرم کے نگرانی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جس نے کام کا جانچ پڑتال کیا اور کام کو تسلی بخش قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے اس وقت دوبارے AC چترال کو درخواست دی کہ جب تک مجھے میرے آٹھ لاکھ روپے جو اضافی خرچ ہوئے ہیں اس کی ادایگی نہیں ہوتی میں یہ کام محکمے کے حوالہ نہیں کروں گا اور ابھی تک میں نے یہ محکمے کے حوالہ نہیں کیا ہے۔

مغل باز کا کہنا ہے کہ آٹھ لاکھ کی اضافی خرچ کے علاوہ مزید بھی 22 لاکھ روپے محکمے کے ذمے واجب الادا ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر متنبہ کیا کہ جب تک اسے یہ تیس لاکھ روپے ادا نہیں کئے جاتے اس وقت تک وہ یہ کام محکمہ کے حوالہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹری وغیرہ میں حرابی بھی آسکتی ہے اگر محکمہ میرا بقایا جات مجھے ادا کرے تو ان تمام حرابی کو میں دور کرکے اس کی مرمت کروں گا۔

اس موقع پر انہوں نے عوام کو تسلی دینے کیلئے یہ بھی کہا کہ اس بقایا رقم کی چیک مجھے نہ دی جائے بلکہ تاجر یونین یا اے سی چترال کو دی جائے اور جب میں یہ کام مکمل کرکے وہ ان کو چیک کرے جب ان کو کام کی پوری تسلی ہوجائے پھر مجھے چیک دیا جائے اس کی تکمیل کا میں پورا گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے کام معیار کے مطابق ہیں اور کئی غیر تسلی بحش یا غیر معیاری چیز نہیں لگائی گئی ہے ۔مغل باز نے اس موقع پر ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ اس کا بقایا رقم (تیس لاکھ روپے) اسے فوری طور پر ادا کی جائے تو وہ یہ کام ایک ہفتے کے اندر مکمل کرکے محکمہ کے حوالہ کرے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں