22 اپریل، 2018

قصور کے بعد اب چترال میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ، ملزم فرار : رپورٹ گل حماد فاروقی

 

قصور کے بعد اب چترال میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ عشریت گاؤں میں پانچویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ زبردستی زیادتی۔ ملزم فرار۔ 



چترال(گل حماد فاروقی) قصور کے بعد اب چترال میں بھی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات شروع ہوئے۔ گیارہ سالہ بچی کے ساتھ زبردستی زیادتی۔ ملزم حسب روایت فرار ہونے میں کامیاب۔ تھانہ عشریت کے ایس ایچ او محمد مظفر الدین کے مطابق تھانہ عشریت کے حدود میں ایک گیارہ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ پولیس کے مطابق عشریت کے ایک شحص مسمی (ث) نے تھانہ آکر رپورٹ درج کی کہ اس کی گیارہ سالہ بچی جو پانچویں جماعت کی طالبہ تھی جب وہ گھر آرہی تھی تو ملزم مقبول احمد سکنہ عشریت نے اسے زبردستی اٹھاکر قریبی جنگل میں لے گئے اور اس کے منہ میں دوپٹہ ڈال کر منہ بند کرائی۔ اس کے بعد اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ 

بچی بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی جب کافی دیر تک گھر نہیں پہنچی تو والدین نے بچی کی تلاش شروع کی جب بچی کے والد مشکوک جگہہ پہنچ گیا تو ملزم مقبول احمد اس کے بچی کے ساتھ زیادتی کررہا تھا اور جب اس نے بچی کی باپ کو دیکھا تو اپنے زیر تن کپڑے بھی چھوڑ کر فرار ہوگیا جسے اٹھا کر تھانہ عشریت لایا گیا او ر پولیس کو شکایت کی۔ 
تھانہ عشریت کے پولیس نے مستغیث ثاقب احمد کے رپورٹ پر ملزم مقبول احمد کے حلاف علت نمبر 56 زیر دفعہ 376/53 CPA چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔ بچی کو بے ہوشی کی حالت میں فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال دروش لایا گیا جہاں اس کی میڈیکل معائنہ کیا گیا تاہم میڈیکل رپورٹ ابھی تک پولیس کو موصول نہیں ہوا ہے ۔ ایس ایچ او تھانہ عشریت کے مطابق ہسپتال سے میڈیکل رپورٹ کے وصولی کے بعد FIR میں مزید دفعات کی بھی اضافہ ہوگا۔ ملزم ابھی تک روپوش ہے اور عشریت پولیس اس کی گرفتاری اور اس کیس میں مزید تفتیش کررہی ہے۔

آزاد ذرائع کے مطابق بعض حلقے اس واقعے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور ملزم کو بچانے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ چترال میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی معصوم بچی کے ساتھ زیاتی ہوئی ہو۔ اس واقعے کے بعد چترال کے لوگوں میں کافی خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور اب چھوٹے بچیاں سکول جاتے وقت ا کو ڈرلگتی ہیں۔ سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے چترال پولیس نے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے ملزم کو گرفتار کرکے اسے عدالت سے قرا ر واقعی سزا دلوادیں تاکہ آئندہ کوئی ملزم چترال کی مثالی پر امن ماحول کو حراب نہ کرے۔ 
دریں اثناء وادی کریم آباد کے پرسان گاؤں سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ شجاع الدین ولد زیر بلی خان اپنے بندو ق کا صفائی کررہا تھا کہ اچانک گولی لگنے سے جاں بحق ہوا۔ اس کی میت کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا جہاں اس کی پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالہ کیا بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ شجاع الدین نے خودکشی کرلی مگر اس کے والدین نے اس کی تردید کی اور اسے اتفاقی واقعہ قرار دیتے ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں