24 اپریل، 2018

ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی 'بدترین ڈکٹیٹر شپ' ہے: نواز شریف


سابق نااہل وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی 'بدترین ڈکٹیٹر شپ' ہے۔

پیر کے روز احتساب عدالت کے اندر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ملک میں جو ہو رہا ہے وہ 'جوڈیشل مارشل لا سے کم نہیں ہے۔‘

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام کی زباں بندی کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔  اُنھوں نے کہا کہ اتنی پابندیاں دور آمریت میں نہیں لگائی گئیں جو اب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئے روز ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے خلاف درج ہونے والے مقدمات میں اُنھیں سزا دلوانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں کو سرخرو کیا جا سکے جنھوں نے نواز شریف کو نااہل اور ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔  اُنھوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ میں اب کوئی دم خم نہیں ہے اور فیصلے اگلی پارلیمنٹ میں ہوں گے۔

نواز شریف نے صحافیوں کے ساتھ چیف جسٹس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہسپتال کا روزانہ دورہ کرتے ہیں اور سبزیوں کے بھاؤ کے بارے میں از خود نوٹس لیتے ہیں تو اس شخص کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ گذشتہ 30 برسوں سے نہیں ہوا۔  اُنھوں نے کہا کہ چیف جسٹس اپنی بات کہہ دیتے ہیں اور جب کوئی دوسرا بات کرنا چاہے تو اس کے بولنے پر پابندی عائد کر دیتے ہیں۔

اصل اشاعت بی بی سی اردو ، بقایا اصل سورس پر پڑھیں



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں