26 اپریل، 2018

قومی احتساب بیورو چترال میں بھی منتخب نمائندوں اور بیوروکریٹس کے اثاثوں کی چھان بین کرے: مولانا عبدالاکبر کا مطالبہ



پشاور(ٹائمزآف چترال نیوز) سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو چترال میں بھی منتخب نمائندوں اور بیوروکریٹس کے اثاثوں کی چھان بین کرے۔ نیب چترال پر بھی توجہ دے اور منتخب نمائندوں سمیت بیورکریٹس اور دیگر افراد کے اثاثوں کی بھی چھان بین کرے۔ ضلع کو وفاق اور صوبے سے ملنے والے فنڈز کی تحقیقات کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ کہاں کتنے پیسے خرچ ہورہے ہیں، نیز تعمیراتی کام کا معیار بھی جانچنا ضروری ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے المرکز الاسلامی پشاور سے جاری کردہ اخباری بیان میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کا بھی محاسبہ ہونا چاہیئے جو چترال کے جنگلات کو کبھی ونڈفال کبھی سنوفال اور کبھی چترال انڈس پالیسی کی آڑمیں ستیاناس کردیا ہے یہ سلسلہ 2010 سے2017 تک جاری ہے۔ جنگلات کی اس بے دریغ کٹائی وتباہی میں عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں ملوث رہی ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں صرف ارندو جنگل سے لاکھوں مکعب فٹ عمارتی لکڑی انڈس پالیسی کے تحت کاٹی گئی ۔اُنہوں نے کہا کہ چترال میں رہنے والے چترالیوں کو اپنے مکان تعمیر کرنے کے لیے60،70 فٹ عمارتی لکڑی لانے کا بھی پرمٹ لینا ہوتا ہے وہ بھی دربدر ٹھوکریں کھانے اور سفارش کے بعد ملتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 2015 کے سیلاب سے متاثرہ لوگ اب بھی عمارتی لکڑی کا پرمٹ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے مکانات تعمیر نہ کرسکے انہوں نے نیب پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام امور کی چھان بین کرکے مجرموں کو کیفردارتک پہنچائے۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں