27 اپریل، 2018

طویل خشک سالی کے باعث چترال کے پہاڑوں میں دراڑیں پڑ گئیں، ہوائی سروے کے دوران کئی چشمے بھی خشک پائے گئے

 

چترال (گل حما د فاروقی) طویل خشک سالی کے باعث چترال کے پہاڑوں میں دھراڑیں پڑ گئے۔ پہاڑوں میں واقع ندی، نالے اور قدرتی چشمے بھی خشک پڑے ہیں۔ ہمارے نمائندے نے حصوصی طور پر ایک غیر سرکاری ادارے کے ہیلی کاپٹر میں چترال ائیرپورٹ سے اڑان بھری اور بالائی چترال کے وادی یارخون تک کے علاقے کا ہوائی جائزہ لیا جس کے دوران ہیلی کاپٹر کے ذریعے چترال کے بالائی علاقے کا فضائی سروسے اور دستاویزی فلم بنایا گیا۔ 

فضائی جائزے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ چترال کے بالائی علاقوں میں زیادہ تر پہاڑی بنجر ہیں اور خشک ہیں تاہم پہاڑو کی چوٹیوں پر برف کا سفید چادر بھچا ہوا ہے جس سے ان برف پوش پہاڑوں کی وجہ سے علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔ 

فضاء سے دستاویزی فلم بناتے ہوئے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ ان پہاڑوں کے بیچ میں جو نالے ہیں ا ن میں خشکی کی وجہ سے دھراڑیں پڑ چکی ہیں اور قدرتی چشمے بھی خشک پڑے ہیں۔ تاہم قدرت نے اس نظام کو خوبصورت رکھنے کا پورا پورا انتظام کیا ہے پہاڑوں کے چوٹیوں پر اس گرمی کے موسم میں بھی برف باری ہوئی جس کی پانی پھگل کر نیچے بہتا ہے اور جہاں سے پانی گزرتا ہے اس کے آس پاس علاقے نہایت سرسبز ہیں اور فضاء سے ایک جنت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ بن موسم کے اس گرمی کے موسم میں برف باری نے جنت نظیر وادی چترال کی حسن میں اضافہ کیا ہے۔ جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ کر لاتے ہیں۔ 

فضاء سے بونی شہر کا منظر نہایت دلکش لگتا ہے پورے بونی شہر نے سبز قالین پہنے ہوئے بہت خوبصورت لگتا ہے تاہم قاقلشٹ کے لق دق ریگستا ن ماضی کے برعکس ریگستان لگتا ہے۔ ماضی میں قاقلشٹ کا میدان نہایت خوبصورت لگتا تھا جہاں موسمی سبز گھاس اگ کر پورا میدان سبز قالین پہنتا۔ وادی یارخون کے پہاڑوں پر دو سے چارفٹ تک برف باری ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ برف پوش پہاڑ ایسے لگتے ہیں کہ اس نے برف کی سفید چادر پہنی ہے۔ 

پاؤر، بھانگ گاؤں کے پہاڑی بھی سفید ہونے کے ساتھ ساتھ ان پہاڑوں سے برف کا پانی نکل کر ندی نالیوں میں بہتا ہے جس سے لوگ آب پاشی کرتے ہیں اور اس پانی کی وجہ سے اس علاقے میں کافی سبزہ اگا ہوا ہے۔ 

فضاء سے ریشن گاؤں کی ایک طرف اگر سیلاب کی تباہ کاریاں نظر آتی ہے جو 2015 کے بعد اب تک تباہ پڑا ہے مگر دوسری طرف قدرتی نے اس کی حسن میں مزید اضافہ کیا ہے اور سبز پودے اور درختوں نے اس کی خوبصورتی میں مزید نکھار پیدا کی ہے۔

فضائی سروے کے دوران سب سے زیادہ خوبصورت گاؤں بونی کے بعد وادی گولین اور اس کے آس پاس دیہات برنس، مروئی، موری لشت وغیرہ ہیں جہاں ہر قسم کے پودے نظر آتے ہیں اور ان کی سبز رنگ نے اس کی حسن میں اضافہ کیا ہوا ہے۔ 

قدرت اپنا نظام ہر حالت میں متوازن رکھتا ہے اگر چترال میں امسال طویل خشک سالی رہی اور بارشیں نہ برسنے کی وجہ سے فضل تلف ہونے لگا تو دوسری طرف قدرت نے بغیر موسم کے بھی اپریل کے وسط میں یہاں برف باری کرکے اس کمی کو پورا کیا اور میدانی علاقوں میں پودوں، درختوں اور جنگلی فصل کو خوب سیراب کیا جبکہ دوسری طرف بناء موسم کے اس برف باری نے چترال کی حسن میں اضافے کا باعث بھی بنا ہے جسے دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں سیاح چترال کا رح کرتے ہیں۔ چترال کے ہوائی اڈے پر اترتے وقت ارد گرد کا منظر اس سے بھی زیادہ دلکش ہے اور دریائے چترال کے کنارے واقع دیہات بہت خوبصورت لگتے ہیں۔ من چاہتا ہے کہ فضاء ہی میں گھومتے ہوئے ان خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتا جاؤں مگر آحر کار ہیلی کاپٹر میں تیل بھی حتم ہوتا ہے اسی لئے مجبوراً زمین پر اترنا پڑا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں