25 اپریل، 2018

#چترال میں پہلی بار پری پیڈ میٹرز کے حامل بجلی گھرسے بجلی کی ترسیل شروع کردی گئی، سوئس سفیر برائے پاکستان نے افتتاح کیا : رپورٹ گل حماد فارقی۔ تفصیل پڑھیں

 

سویٹذرلینڈ کے سفیر نے وادی یارخون کے پاؤر گاؤں میں 800کلو واٹ پن بجلی گھر کا افتتاح کیا۔ چترال کے لوگ نہایت محنتی اور نفیس ہیں۔ سویس سفیر کے تاثرات۔



چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی علاقے وادیٔ یارخون کے گاؤں پاؤر میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے زیر نگرانی 800 کلو واٹ پن بجلی گھر تیار ہوا۔ بجلی گھر SDC یعنی سویس ایجنسی فار ڈیویلپمنٹ اینڈ کوآپریشن کےمالی تعاون سے تیا رکیا گیا۔ سویٹزرلینڈ کے سفیر Thomas Kolly نے مہمان خصوصی کے طور پر بجلی گھر کا افتتاح کیا ۔ افتتاحی پروگرام کے موقع پر SDC کے ڈپٹی ڈائیریکٹر ڈینیل سینئرپروگرام آفیسر ثناء عمر، کوارڈینیٹر آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک جی بی سی شیرزاد علی حیدر، آغا خان فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اختر اقبال، AKRSP کے جنرل منیجر مظفر الدین ، اور ریجنل پروگرام منیجر انجینئر سردار ایوب وغیرہ بھی موجود تھے۔ مہمان خصوصی نے فیتہ کاٹ کر پن بجلی گھر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

جن کو بعد میں بجلی گھر کے بارے میں بریفنگ دی گئی کہ یہ ملک کا واحد پن بجلی گھر ہے جہاں ایسے ڈیجٹل میٹر لگے ہیں جو کارڈ سسٹم کے ذریعے چلتے ہیں ۔ صارفین ہر ماہ اپنے میٹر موبائل فون کی طرح رقم لوڈ کرتا ہے اور اس کے بعد ان کی بجلی کی ترسیل شروع ہوتی ہے۔ اس موقع پر مہمانوں کو چترال اور ہنزہ کے روایتی ٹوپی بھی تحفے کے طور پر پیش کئے گئے۔ معروف ماہر تعلیم اور مقامی تنظیم کے صدر شیر ولی خان آسیر نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ماضی میں کافی پسماندہ رہا مگر اب امید ہے کہ اس بجلی گھر کی تعمیر کے بعد یہاں کے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ نہایت محنتی اور خواتین بہت جفاکش ہیں مگر ان کو روزگار کے مواقع نہیں ملتے انہوں نے مطالبہ کہا کہ اگر سوئس حکومت یا ایس ڈی سی کے ارباب احتیار یہاں کے خواتین کیلئے ایک دستکاری مرکز کھول دے تو ان کو گھر بیٹھے باعزت روزگار کے موقع مل سکیں گے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان اداروں کے ساتھ مقامی لوگوں کے ساتھ مدد کی جائے تاکہ ان کو سستی نرح پر بجلی مل سکے تاکہ وہ اس بجلی کو کھانا پکانے اور گھروں کو گرم رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہاں صنوبر کے بہت زیادہ درخت تھے اور یہ پہاڑ سارے گھنے جنگل تھے مگر گیس اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجبوراً ان درختوں کو کاٹ کر جلاتے ہیں،  جس کے نتیجے میں اب یہ پہاڑ بنجر بن گئے۔

عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سوئس سفیر نے یارخون کے لوگوں کو نہایت سراہا کہ یہ بہت محنتی لوگ ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان لوگوں نے AKRSP کے زیر نگرانی ایک کامیاب بجلی گھر بنایا جس میں مردوں کے علاوہ خواتین کو بھی روزگار کے مواقع ملے ہیں تو ان کی حکومت ان لوگوں کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ افتتاحی تقریب سے جنرل منیجر مظفر الدین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر اختر اقبال نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پایہ دار ترقی کیلئے مقامی تنظیمات میں خواتین کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں