25 اپریل، 2018

چترال کے درجہ چہارم ملازمین کا دروش میں ریلی۔ پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کیلئے روانہ۔

 


چترال (گل حماد فاروقی)چترال بھر میں درجہ چہارم سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں دروش بازار میں ریلی نکالی۔ یہ ریلی دروش گول پل سے شروع ہوکر میں چوک میں احتتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی قیادت درجہ چہارم (کلاس فور) ملازمین کے صدر محمد قاسم کررہے تھے جنہوں نے بنیرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے دوران درجہ چہارم ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ ریلی کے بعد چترال سے بھی درجہ چہارم ملازمین پشاور کیلئے روانہ ہوئے جہاں وہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر ۱ پشاور صدر میں جلسہ کریں گے اور اس کے بعد صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے درجہ چہارم عملہ کے ضلعی صدر محمد قاسم نے کہا کہ ہم نہایت کم درجے کے ملازمین ہیں جو نہایت قلیل تنخواہ میں اپنے بچوں کے پیٹ پالتے ہیں ۔ صوبائی حکومت افسران کی تنخواہیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز ، پیرا میڈیکل ، نرسز سٹاف کو پروفیشنل یعنی پیشہ ورانہ الاؤنس بھی دیتے ہیں مگر ہمیں کچھ بھی نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارا چارٹڈ آف ڈیمانڈ فوری طور تسلیم کیا جائے۔ جس کے مطابق ان درجہ چہارم ملازمین کا مطالبہ ہے کہ درجہ چہارم ملازمین کیلئے ٹائم سکیل کا اعلامیہ جاری کیا جائے۔ جس شرح سے دوسرے ملازمین کی ترقی ہوتی ہے یا ان کا سکیل بڑھا یا جاتا ہے اسی تناسب سے ہمارا سکیل بھی بڑھایا جائے۔

ان کا دوسرا مطالبہ ہے کہ مہنگائی کے تناسب سے غریب درجہ چہارم سٹاف کے تنخواہوں میں 100 فی صد اضافہ کیا جائے۔ صوبائی حکومت 7.5 فی صد ایڈھاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا اعلامیہ جاری کرے۔ محکمہ صحت میں کام کرنے والے درجہ چہارم ملازمین کیلئے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا اعلامیہ جاری کیا جائے۔ محکمہ خزانہ میں کام کرنے والے درجہ چہارم عملہ کیلئے 33 فی صد ترقی دینے کے کوٹہ پر عمل درآمد کیا جائے۔ ان کا چھٹا مطالبہ ہے کہ درجہ چہارم ملازمین میں تعلیم یافتہ افراد جنہوں نے PST, CT, AT,TT,DM,PET, SET پاس کی ہیں یا دیگر کورس کی ہیں ان کیلئے تمام محکموں میں کوٹہ محتص کیا جائے تاکہ ان کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت دی جائے اور ان کیلئے حصوصی کوٹہ محتص کیا جائے۔

دیگر ملازمین کی طرح درجہ چہارم عملہ کیلئے بھی محتلف سرکاری رہائیشی سکیموں میں پلاٹ آسان قسطوں پر فراہم کی جائے۔ اٹیچ ڈیپارٹمنٹ کے ڈرائیور ملازمین کو سیکرٹریٹ ڈرائیور ملازمین کی طرح مراعات اور اُؤر ٹائم الاؤنس دیا جائے۔ درجہ چہارم سٹاف کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ان کے میڈیکل ، کنونس اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں 200 فی صد اضافہ کیا جائے۔ پہاڑی علاقوں میں کام کرنے والے درجہ چہارم ملازمین کیلئے چار کول (یا فائر ووڈ) کی بجٹ کو 100 فی صد یقینی بنایا جائے اور اس بجٹ میں لگنے والی کٹوتی کو حتم کیا جائے۔

درجہ چہارم ملازمین کیلئے سالانہ یونیفارم الاؤنس کو کم از کم 5000 روپے مقرر کیا جائے۔ درجہ چہارم ملازمین کے مالک جائداد کوٹہ پر ایجنسی اور سیٹل میں بھرتی کرنے کو یقینی بنایا جائے ٹیکنکل ایجوکیشن میں درجہ چہارم ملازمین کیلئے 33 فی صد پروموشن کوٹہ پر عمل درآمد کیا جائے۔ آئین پاکستان کے مطابق تمام ملازمین کے تنخواہوں اور الاؤنس میں تضاد حتم کیا جائے۔

پر امن ریلی نکالنے کے بعد یہ تمام ملازمین دروش چوک میں اکٹھے ہوئے اور دعائیہ کلمات کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر پشاور کیلئے روانہ ہوئے جہاں وہ اپنے مطالبات کے حق میں صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں