23 اپریل، 2018

بلچ سنگور روڈ، جو کبھی بھی ارباب اختیار کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا : تحریر ایم فاروق

بلچ سنگور روڈ، جو کبھی بھی ارباب اختیار کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا : تحریر ایم فاروق


مہترجو ضیاء الدین کوغزی

بلچ اور سنگور کا شمار چترال کے سب سے پوش علاقوں میں ھوتا ہے۔ بلچ روڈ جس کو عرف عام میں ایئر پورٹ روڈ کا نام دیا جاتا ہےکی حقیقی مرمت اور توسیع شاید ارباب اختیار کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ غالب گمان یہی ھے کہ دانستہ اس سڑک کو بطور اثار قدیمہ کے محفوظ رکھا گیا ہے۔ سڑک پر جا بجا وہ قدیم اور تاریخی گڑہے اور کھڈے جوں کے توں موجود ھیں جن پر سے گزر کر سکندر اعظم کبھی دنیا فتح کرنے نکلے تھے۔

کافی عرصے سے سڑک کے کناروں پر خندقیں کھو دی گئی ہیں جن کا مقصد اتنا معلوم ہوسکا کہ بارش کے پانی کو جتنا بھی ہو سکے سڑک کی حدود سےباھر نہیں نکلنے دینا ھے، چنانچہ جب بھی بارش ہوتی ہے سڑک تالاب کا منظر پیش کرتا ہے۔ محکمہ ماہی پروری والوں سے گزارش ھے کہ تجرباتی طور پر افزائش نسل کے لئے مچھلی کے انڈے بھی اس میں ڈال دئیے جائیں۔


چونکہ اسی سڑک پر سے ہو کر اہم شخصیات ائر پورٹ سے شہر تشریف لے اتے ہیں ۔ لہزا ایسے موقوں پر  سڑک کی عارضی مرمت اس احتیاط سےکی جاتی ھے کہ سڑک کی تاریخی اور قدیمی حیثیت کو مبادا کوئی نقصان نہ پہنچے۔چنانچہ ان شخصیات کی امد کے موقوں پر بیلچہ بھر مٹی ان گڑھوں پر ڈال دی جاتی ھے۔
وادی خظار سے تعلق رکھنے والے وہ ڈرائیور حضرات جن کو پرسان، سوسوم اور ارکاری جیسے دنیا کے مشکل تریں راستوں پر گاڑی چلانے کا وسیع تجربہ حاصل ھوتا ہے اس سڑک پر پہنچتے ھی ان کے ھاتھ بھی کپکپا اٹھتے ھیں۔

پچھلے سال انتظامیہ نے اس سڑک کی پختگی اور مرمت کی سوجھی، فنڈ کا اجراء ھوا تو خوش قسمتی سے ٹھیکدار بھی اثارقدیمہ کے حد درجہ قدردان نکلے،دوران پختگی اس بات کا خاص خیال رکھا کہ جتنا بھی ھو سکے تارکول کا استعمال کم سے کم کیا جائے ،پتلے ریت کی موٹی تہہ بچھا کر اوپر تارکول کا سپرے بس اتنی مقدار میں کی گئی کہ سڑک پر سے گزرنے والوں کو محص اس کی بو محسوس ھو سکے۔

بچھائے گئے ٹھوس مادے کی سطح کو ھموار بنانے کے لئے رولر کی ضرورت پیش ائی تو دستیاب جدید مشینری کے بجائے سو سالہ پرانی ہتھ گاڑی کا بندوبست کیا گیا ۔اکیسویں صدی عیسوی میں چار ادمیوں کے پیچھے باندھ کر جب رولنگ کے عمل کا اغاز کیا گیا۔تو بدقسمتی سے چترال ٹائمز والوں کی نظر پڑی فورا سے پیشتر انہوں نے خبر چلا کر اس غیر انسانی عمل کو رکوا دیا۔

 مرمت کے بعد انتظامیہ کو اس سڑک کی توسیع کا شوق پیدا ھو گیا۔چنانچہ سڑک سے ملحقہ پہاڑی کو کاٹنے کے بجائے دریا کی سطح سے ایک اضافی پشتے کی تعمیر شروع کی گئی لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد جب اس ترچھے دیوار کی تکمیل ھوگئی تو مجال ھے کہ سڑک کی کشادگی میں بالشت بھر کا بھی اضافہ ھو سکا ھو۔

(طنزیہ الفاظ کے استعمال پر پیشگی معزرت خواہ ھوں، اس پوسٹ کا مقصد کسی کی دل ازاری ھرگز نہیں ھے) 




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں