19 اپریل، 2018

آزادی صحافت: ’سینسرشپ سے خبر دبنے کے بجائے زیادہ پھیل جاتی ہے‘ : بی بی سی اردو سے

 

جب اس ماہ آٹھ اپریل کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عوام کے بنیادی حقوق کی آواز اٹھانے والی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) نے اپنا جلسہ کیا تو ملک میں ہونے والے دیگر سیاسی جلسوں اور دھرنوں کے برعکس الیکٹرانک میڈیا پر اس کی کوریج خال خال ہی رہی۔



اس جلسے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازوں کے مطابق 20 سے 30 ہزار افراد پر مشتمل تھی لیکن اس کے بارے میں کچھ جاننے اور دیکھنے کے لیے صرف سوشل میڈیا ہی واحد راستہ تھا۔

اگلے روز اخبارات میں بھی، ماسوائے انگریزی اخبار ڈان کے، پی ٹی ایم کے اس جلسے کی خبریں دبے لفظوں میں صرف اندرونی صفحات پر نظر آئیں۔

جلسے کے چار روز بعد راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے مرکزی دفتر جی ایچ کیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی ٹی ایم کا نام لیے بغیر تنظیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب سے فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے اور باہر اور اندر سے کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں۔‘

آرمی چیف کے بیان کے دو روز بعد جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والے انگریزی اخبار دی نیوز کے کالم نویس اور وکیل بابر ستار نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’میڈیا پر پی ٹی ایم کے بارے میں بات کرنے پر پابندی ہے اور جنگ اور جیو کو حکم دیا گیا ہے کہ حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں تو میرا ہفتہ وار کالم اس بار نہیں چھپا۔‘

ایک دن بعد دی نیوز اخبار میں ہی اتوار کو شائع ہونے والے جریدے ’دی نیوز آن سنڈے‘ کا پی ٹی ایم کے بارے میں خصوصی ضمیمہ شائع ہوا لیکن جب وہ مضامین ویب سائٹ پر لگے تو جریدے کی مدیر فرح ضیا کو انتظامیہ سے پیغام ملا کہ انھیں وہاں سے ہٹایا جائے۔

اس حوالے سے کیے جانے والے سوال پر فرح ضیا نے بی بی سی کو بتایا: ’اتوار کو جب پشتون تحفظ تحریک کے بارے میں ہمارے مضامین اخبار میں شائع ہونے کے بعد ہماری ویب سائٹ پر لگے اور سوشل میڈیا پر ان کا چرچا ہوا تو ہمیں انتظامیہ کی جانب سے پیغام ملا کے انھیں ویب سائٹ سے ہٹایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسا غالباً پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ہمارے کسی مضمون کو ویب سائٹ سے ہٹائے جانے کے بارے میں پیغام ملا ہو لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

’یہ قدم ایک رد عمل ہے لیکن اس کی وجوہات کے بارے میں واضح نہیں ہے کہ آیا ہماری انتظامیہ پر کوئی بیرونی دباؤ تھا یا انھوں نے صرف حفظ ماتقدم کے تحت یہ فیصلہ کیا۔‘ فرح ضیاء کے مطابق آج کل کے دور میں اس قسم کی سنسرشپ سے خبر دبنے کے بجائے زیادہ پھیل جاتی ہے اور اس فیصلہ کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔

’سوشل میڈیا پر لوگوں نے اخبار کے تراشوں کی تصویر لگائی اور کئی نے تو یہ بھی کہا کہ اس کے بعد اخبار کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہوگا۔ اور پھر انٹرنیٹ پر کئی ایسے ذرائع ہیں جہاں آپ اپنے مضمون لگا سکتے ہیں اور سینسر کی زد میں آنے والے مضمون تو لوگ اور بھی زیادہ پڑھنا چاہتے ہیں۔۔

مکمل مضمون پڑھیں بی بی سی اردو  پر




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں