29 مئی، 2018

چترال میں ادبی سیاسیات : جی کے صریر (قسط-2)

چترال میں ادبی سیاسیات : جی کے صریر (قسط-2)

مورخہ 4 مئی کو "مئیر آفس" میں جشن قاقلشٹ کا بائکاٹ کرنے والی سات تنظیموں کی ایک اہم اور مشترکہ نشست ہوئی جہاں دیگر ساتھیوں کے علاوہ فضل الرحمان شاہد, عطاء حسیں اطہر, ظہور الحق دانش, سعادت حسیں مخفی, محمد
کوثر وغیرہ اپنی اپنی تنظیموں کی نمائندگی کررہے تھے. اجلاس کا ایجنڈا ضلعی انتظامیہ کی دعوت پر اے-ڈی-سی سے ملاقات, مستقبل کا لائحہ عمل اور جشن چترال سے متعلق متوقع انتظام و انصرام بتایا گیا. راۓ زنی کے بعد مخفی صاحب نے ایک قرارداد تحریر کی جس کے مطابق اے-ڈی-سی منہاس الدین کے توسط سے ڈی-سی کے سامنے ایک مربوط لائحہ عمل پیش کرنا تھا جس کے موافق چترال کی ادبی و ثقافتی تنظیموں کو ایک چھتری تلے جمع کرکے "ادبی و ثقافتی رابطہ کونسل" کا قیام عمل میں لانا تھا تاکہ مستقبل میں کسی بھی ثقافتی و ادبی تقریبات و پروگرامات کا انعقاد صرف اور صرف اس کونسل کے زیر سایہ انجام پاسکے. ایک اور غیر سرکاری تنظیم "انواز" کی شمولیت پر بات چھڑی تو چند ایک صاحباں اس چیز پر معترض تھے کہ صرف بائکاٹ میں ساتھ دینے والی سات تنظیموں کے علاوہ کسی بھی تنظیم, ادارے یا شخص کو مستقبل کے لائحہ عمل کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا. میرا موقف تھا کہ اگر کھوار ادب و ثقافت کی مخلصانہ خدمت ہمارا مقصد ہے تو تمام تر رنجشوں اور غلط فہمیوں کو بھلا کر محنت سے سرشار اس میدان کے اور بھی افراد اور تنظیمات کو ساتھ ملانا بہتر ہوگا.



اے-ڈی-سی منہاس الدین سے ملاقات پر انہوں نے جشن چترال کا مژدہ سناکر چترال میں موجود تمام ادبی و ثقافتی میدان میں کام کرنے والی تنظیموں کو ایک چھتری تلے لانے, باہم مشاورت سے رابطہ کونسل تشکیل دینے اور اسی کے زیر سایہ آئندہ ہفتے جشن قاقلشٹ کا انتظام سنبھالنے کی تاکید کی. ساتھ ہی انہوں نے بہت جلد پروگرامات کی ترتیب کے بارے میں تحریری تجویز اور متوقع اخراجات کا جدول پیش کرنے کو کہا جن کی ہم نے حامی بھرلی. اے ڈی سی آفس سے رخصت لینے کے بعد ہماری گذارش خاطر میں لاۓ بغیر اور اگلے روز یعنی ہفتے کو صبح دس بجے تک مجوزہ نشست کا کہہ کر باقی کے احباب اپنی اپنی گاڑیوں میں جلدی جلدی رخصت ہوگئے. مقررہ دن اور وقت پر جب کوئی شنید نہ ہوئی تو  ہم نے دوستوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی. بالاآخر جب اطہر صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے کلاس روم میں مصروف ہونے کا کہا. چھٹی کے دن کلاس لینے سے متعلق ہمارے جملہ معترضہ پر وضاحت دی کہ بہرحال سارے ساتھی اپنے گھر جارہے ہیں اور مجوزہ نشست پیر کو ہوسکے گی.

پیر مورخہ 7 مئی کو ہم نے ان دوستوں سے بشمول ظہور الحق دانش اور عطاء حسیں اطہر, رابطہ کرنے کے لیے بار بار کال ملاتے رہے, مگر کسی نے بھی جواب نہیں دیا. مایوس ہوکر ہم اے-ڈی-سی آفس پہنچ گئے جہاں کچھ ہی دیر میں جمشید حسیں عارف بھی تشریف فرما ہوۓ. جمشید صاحب نے اے-ڈی-سی کو کاغذات سے لدی ہوئی ایک فائل تھمادی. جب بات چیت آگے بڑھی تو پتہ چلا کہ جمشید صاحب کے دولت کدے (بمقام کوغذی) میں بیٹھ کر جشن چترال کے سارے انتظامات اور زمہ داریوں کے تعین, کلچرل اینڈ لیٹرری کونسل کے قیام اور اس کے کابینہ اراکین کے تقرر وغیرہ کو ختمی شکل دینے کا فریضہ خفیہ طور پر ہفتے کے دن ہی مکمل ہوچکا تھا. کاغذات کی جانچ پڑتال پر معلوم ہوا کہ تجویز کنندہ رابطہ کونسل میں باقی کی تنظیمات ایک طرف, بائکاٹ کے دنوں سے ساتھ دینے والی تنظیمیں یعنی سہارا چترال, بزم زندگی اور نئی آنے والی انواز فہرست سے خارج کی گئی ہیں. ہم نے طے شدہ طریقہ کار, فیصلہ جات اور ان پر اپنے تحفظات یاد دلایا تو جواب ملا کہ ہمارے حدشات کا اسی روز سہ پہر کے وقت پہلے سے مقررہ میٹنگ میں ازالہ کیا جاۓ گا.

سنٹینئیل ہائی اسکول کے سبزہ زار میں مذکورہ نشست میں بہت سارے ادیب و شاعر تشریف لاۓ جن میں نو زائدہ "چترال کلچرل اینڈ لٹریری کونسل" کے عہدیداراں, عارف, دانش اور شاہد صاحباں بھی شامل تھے. جب بات آگے بڑھی تو کسی بھی دلیل یا اصول کی چنداں پرواہ کیے بغیر ہمیں دو ٹوک انداز میں بتایا گیا کہ چاہو تو آپ لوگ ان خارج شدہ تین تنظیموں کو لےکر جشن چترال سے متعلق پروگرام کا انعقاد کرسکتے ہو, مگر کسی بھی صورت یا قیمت پر انہیں کونسل کی رکنیت نہیں دی جاۓ گی اور نہ ان کے ہمراہ کام کیا جاۓ گا. واضح رہے کہ اس موقع پر انواز کا کوئی نمائندہ شریک نہیں تھا. ایک وقت ایسا آیا کہ شاہد صاحب میٹنگ سے احتجاجأ رخصت ہونے لگے. ہم نے واپس بٹھاکر انہیں اختیار دیا کہ چوںکہ وہ ہمارگ بڑے ہیں لہذا جیسا وہ چاہے فیصلہ کرسکتے ہیں. آئیں بائیں شائیں کے نتیجے میں بات چیت ختمی صورت اختیار نہیں کرسکی. موقع کی نزاکت کے پیش نظر جب ہم نے حائل نہ رہنے کا فیصلہ سناکر رخصت چاہی تو دانش صاحب فرمانے لگے کہ فی الوقت لٹریری اینڈ کلچرل کونسل موقوف کی جاۓ گی اور مذکورہ بائکاٹ کرنے والی تنظیمات جشن چترال کا انعقاد باہم تعاون سے کریں گی.

اس روز احباب کے رویوں اور نشست میں شامل ادیبوں اور شاعروں کے شفقت بھرے بیانات و کلمات سے ہمیں بدلتی فضاء کا مکمل اندازہ ہوچکا تھا. اسی لیے رکاؤٹ بننے کے کسی بھی الزام سے بچنے کے لیے ہم ان خالی خول اعلانات کو جوں کے توں چھوڑ کر چلے آۓ. چند دنوں بعد دانش صاحب فون پر رابطہ اور غلطیوں پر معذرت کا اظہار کرکے مجھے اور رفیع صاحب کو ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے تک الگ الگ یہ یقین دلاتے رہے کہ کسی بھی کونسل کے بغیر ہم مل جل کر جشن کو کامیابی سے ہمکنار کریں گے اور پروگرامات سے متعلق نظر انداز شدہ تنظیموں کو بھی زمہ داریاں سونپی جائیں گی جبکہ کونسل پر بہت جلد نظر ثانی کرکے باقی کی تنظیموں کو بھی جگہ دی جاۓ گی. مگر گیارہ مئی کو جشن چترال کے جملہ پروگرامات "کلچرل اینڈ لٹریری کونسل" کے بینر تلے بخیرو خوبی انجام پارہے تھے جن میں مسترد شدہ تنظیمات اور افراد کو تمام تر یقین دہانیوں اور عہدو پیماں کے برخلاف بےدخل کردیے گئے تھے.

--------------------------------------------------------------------------

ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں