30 مئی، 2018

گولین گول پاؤر ہاؤس 36 میگاواٹ بجلی کے باوجود 5 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلاء بردادری اور سیاسی پارٹیوں کا احتجاج

 

گولین گول پاؤر ہاؤس میں 36 میگا واٹ بجلی پیدا ہونے کے باوجود پیسکو کا عملہ روزانہ پانچ گھنٹے لاؤڈ شیڈنگ کرنے کے حلاف وکلاء برادری اور تمام سیاسی پارٹیوں کا مشترکہ احتجاج۔



چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں گولین گول کے مقام پر 107 میگا واٹ پن بجلی گھر کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر وزیر اعظم شاہد حاقان عباسی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اب چترال میں لاؤڈ شیڈنگ نہیں ہوں گی مگر پشاور الیکٹریسٹی سپلائی کمپنی (پیسکو) اور پشاور ڈسٹری بیوشن سنٹر (پی ڈی سی) نے وزیر اعظم کے اعلان کی دھجیاں اڑا دی۔ پورے چترال میں اس وقت بجلی کی خرچ صر ف تیرہ میگا واٹ ہے جبکہ گولین گول پن بجلی گھر کے فیز ون سے اس وقت 35 میگا واٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔ مگر اس کے باوجود چترال میں روزانہ پانچ گھنٹے کی لاؤڈ شیڈنگ چہ معنہ دارد؟

اس کے حلاف چترال کے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل کے کال پر چترا ل کے تمام وکلاء برادری اور آل سیاسی پارٹیز کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر پیسکو کے حلاف ایک ریلی نکالی جو PIA چوک سے شروع ہوئی اور شاہی بازار روڈ سے گزرتے ہوئے اتالیق چوک میں احتتام پذیر ہوئی جہاں ریلی ایک جلسے کی شکل احتیار کرگئی۔

احتجاجی جلسے کی صدارت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل کر رہے تھے۔ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وزیر اعظم نے گولین پن بجلی گھر کے افتتاح کے موقع پر اعلان اور وعدہ کیا تھا کہ اب چترال میں لاؤڈ شیڈنگ نہیں ہوگی مگر پیسکو کا عملہ جان بوجھ کر لاؤڈ شیڈنگ کروارہے ہیں جو وزیر اعظم کو بدنام کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ جب ہم گولین گول پاؤر ہاؤس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے پوچھتے ہیں تو ان کاجواب یہی ہوتا ہے کہ ان کا بجلی گھر ایک سیکنڈ کیلئے بھی بند نہیں ہوتا بلکہ ہم پیسکو کے سب ڈویژنل آفیسر سے بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہماری بجلی مصرف سے زیادہ ہے اس پر مزید 8 میگا واٹ کا لوڈ ڈالو مگر وہ نہیں مانتے اور اگر پورے چترال میں بھی تمام صارفین بیک وقت بجلی استعمال کرے اس کے باوجود بھی بجلی گھر میں بجلی استعمال سے زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

اس سلسلسے میں پیسکو کے SDO فضل حسین سے جب رابطہ کرکے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے بجلی بند کرنے کی کوئی پرمٹ بھی نہیں ہے نہ کوئی ہدایت ہے یہ گریڈ اسٹیشن والے بند کرتے ہیں۔ وکلاء براردری نے کہا کہ گریڈ اسٹیشن میں ایک نان ٹیکنیکل بندے کو انچارچ بنایا ہوا ہے جب ان سے پوچھتے ہیں کہ بجلی کیوں بند کرتے ہو تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ان کو اوپر سے حکم ہے یعنی پشاور ڈسٹری بیوشن سنٹر سے ہدایت ہے کہ روزانہ پانچ گھنٹے لاؤڈ شیڈنگ کیاکرے جب ان سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اگر ملک کے دیگر حصوں میں لاؤڈ شیڈنگ کی جاتی ہے تو وہاں بجلی نہیں ہے مگر چترال میں تو واپڈا کی اپنی دو پن بجلی گھر موجود ہیں اور بجلی وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے اگر لاؤڈ شیڈنگ نہ بھی ہو تب بھی بجلی اس کی مصرف سے زائد ہوتی ہے اور اگر لاؤڈ شیڈنگ کی جائے تو بجلی گھر تو بند نہیں ہوتا یہ بجلی بغیر استعمال کے ضائع ہوتا ہے جس سے واپڈا کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور عوام کو بھی مشکلات کا سامنا تو گریڈ اسٹیشن کے انچارچ ظہیر الدین کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ان کو اوپر سے حکم ہے وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ 

فضل رحیم ایڈوکیٹ جو واپڈا کا وکیل بھی ہے انہوں نے بھی پی ڈی سی پشاور سے ارباب احتیار سے رابطہ کیا تو ان کو جواب ملا کہ ہم نے چترال گریڈ اسٹیشن کے SSo کو یہ نہیں کہا ہے کہ بجلی خواہ محواہ بند کرے۔ مقررین نے کہا کہ چترال میں ماضی میں طویل دورانئے کا غیر اعلانیہ لاؤڈ شیڈنگ ہوا کرتا تھا جس میں صارفین سولہ سے چوبیس گھنٹے بلکہ بعض دیہات میں 48گھنٹے تک لاؤڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتا تھا مگر اب چونکہ مقامی طور پر بجلی گھر بن چکا ہے اور خرچ سے بھی زیادہ بجلی پیدا کرتی ہے جو ویسے ضائع ہوتی ہے تو اب لاؤڈ شیڈنگ کرانے کا کیا مقصد ہے۔

مقررین نے وزیر اعظم ، چیرمین واپڈا اور چیف ایگزیکٹیو پیسکو کو خبردار کیا کہ چترال میں وافر مقدار میں بجلی پیدا ہونے کے باوجود بلا جواز لاؤڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے ورنہ چترال کے وکلاء اور سیاستدان پیسکو کے دفتر اور گریڈ سٹیشن کو تھالہ لگانے پر مجبور ہوں گے۔ مقررین نے تین دن کا ڈیڈ لائن دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر تین دن کے اندر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو وہ ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور اب کے بار پر تشدد احتجاج کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈپٹی کمشنر چترال ، ضلع ناظم پر بھی کھڑی تنقید کی کہ وہ کیوں حاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں کیوں نہ پیسکو اور GSO کے انچارج پر FIR درج کرکے ان کو جیل نہیں بھجواتے۔ اس موقع پر مظاہرین ن بینر ز ہاتھ میں اٹھا رکھے تھے جس پر واپڈا مرداہ باد ، پیسکو مردہ باد وغیرہ کے نعرے درج تھے۔

احتجاجی جلسہ سے سابق صدر ساجد اللہ ایڈوکیٹ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ، JUI کے ایس پی ریٹائرڈ محمد سعید خان لال، پی ایم ایل ن کے صفت زرین، اے این پی کے چئرمین فضل رحمان بونی، جماعت اسلامی کے امیر مولانا جمشید، عالم زیب ایڈوکیٹ، پی ٹی آئی کے رضی الدین ،کوثر ایڈوکیٹ، ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ، عبدالولی خان ایڈوکیٹ پی ٹی آئی، ڈسٹرکٹ بار ایسوی ایشن کے صدر خورشید حسین مغل ایڈوکیٹ، مولانا اسرار الدین الہلال وغیرہ نے اظہار حیال کیا بعد میں یہ احتجاجی جلسہ پر امن طور پر منتشر ہوا۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں