29 مئی، 2018

پاٹا کی مخصوص حیثیت ختم کرنے سے چترال کوبڑا نقصان ہوگا: مولانا عبدالاکبر چترالی

پشاور(ٹی او سی - نیوز ڈیسک) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ’فاٹا‘ اصلاحات کی آڑ میں پاٹا ’صوبائی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقے‘ کی مخصوص ختم کرکے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو چترال سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور ہم 31ویں ترمیم کے نتیجے میں ملاکنڈ ڈویژن کو متاثر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف صف اوّل کا کردار ادا کریں گے ۔



سابق ممبر قومی اسمبلی اور موجودہ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے منتخب نمائندہ مولانا عبدالاکبر چترالی نے ایک بیان میں کہا انہوں نے مزید  کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ریاستوں نے غیر مشروط طورپر پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔پاٹاکو31ویں ترمیم سے نکالا جائے بصورت دیگر ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے باشندے اس حالیہ ترمیم کیخلاف سڑکوں پر ہوں گے۔ اُنہوں نے  کہا کہ31ویں ترمیم کے آنے سے پہلے ہی چترال کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور پاٹا کی مخصوص حیثیت ختم کرکے ملاکنڈ ڈویژن کے بالعموم اور ضلع چترال کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی کبھی بھی قبول نہیں ہوگی۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں