اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

29 مئی، 2018

پاٹا کی مخصوص حیثیت ختم کرنے سے چترال کوبڑا نقصان ہوگا: مولانا عبدالاکبر چترالی

پشاور(ٹی او سی - نیوز ڈیسک) وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ’فاٹا‘ اصلاحات کی آڑ میں پاٹا ’صوبائی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقے‘ کی مخصوص ختم کرکے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو چترال سب سے زیادہ متاثر ہوگا اور ہم 31ویں ترمیم کے نتیجے میں ملاکنڈ ڈویژن کو متاثر کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف صف اوّل کا کردار ادا کریں گے ۔



سابق ممبر قومی اسمبلی اور موجودہ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے منتخب نمائندہ مولانا عبدالاکبر چترالی نے ایک بیان میں کہا انہوں نے مزید  کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ریاستوں نے غیر مشروط طورپر پاکستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔پاٹاکو31ویں ترمیم سے نکالا جائے بصورت دیگر ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع کے باشندے اس حالیہ ترمیم کیخلاف سڑکوں پر ہوں گے۔ اُنہوں نے  کہا کہ31ویں ترمیم کے آنے سے پہلے ہی چترال کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور پاٹا کی مخصوص حیثیت ختم کرکے ملاکنڈ ڈویژن کے بالعموم اور ضلع چترال کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی کبھی بھی قبول نہیں ہوگی۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں