26 مئی، 2018

چترال میں ادبی سیاسیات : تحریر جی کے صریر

 

چترال میں ادبی سیاسیات : تحریر جی کے صریر

(قسط-1)
گذشتہ ماہ یعنی اپریل کو جشن قاقلشٹ منایا گیا. ان دنوں نجی مصروفیات کی وجہ سے میں خود اسلام آباد اور پشاور کے درمیاں بھٹک رہا تھا. ایک عزیز نے فون پر بتاکر اجازت مانگی اور پھر میڈیا کے زریعے معلوم ہوا کہ سات ادبی و
ثقافتی میدان میں کام کرنے والی تنظیموں نے مشترکہ لائحہ عمل کے تحت موقع کا بائکاٹ کیا جس کی وجہ جشن قاقلشٹ کے انتظام و انصرام غیر علاقائی افراد کے ہاتھ میں دینا اور چترالی ادب و ثقافت کے خلاف ساز باز بتائی گئی. بائکاٹ کرنے والوں میں ادب و ثقافت پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم یعنی سہارا چترال کے علاوہ انجمن ترقی کھوار, کھوار اہل قلم, کھوار قلم قبیلہ, انجمن ترقی کھوار حلقہ چترال (مرکزی), ناندوشی, بزم زندگی اور میئر تنظیمات شامل تھیں.

بائکاٹ کا ملاجلا ردعمل دیکھنے کو ملا. ادب و ثقافت کی مردم خیز سرزمین دروش کے اکابرین اور نوجوان ادیبوں اور شاعروں نے قطع تعلقی کی پرواہ کیے بغیر بڑھ چڑھ کر قاقلشٹ کی تقریبات میں حصہ لیا. ان کا موقف تھا کہ آج تک جشن قاقلشٹ, شندور یا جشن چترال وغیرہ علاقے کے چند چنندہ اور مخصوص ادیبوں  شاعروں کے زیر نگرانی منعقد کیے جاتے اور انجام پاتے رہے ہیں جن میں باقی اکثریتی ادبی شخصیات اور تنظیمات کا پوچھا بھی نہیں جاتا تھا. اس لیے مذکورہ ایونٹ میں دروش کے ادباء و شعراء اپنے انفرادی فیصلے میں آزاد اور حق بجانب ہیں. مگر انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور وہ میڈیا پر تردیدو تضحیک کا نشانہ بنتے رہے.

جشن قاقلشٹ کا افتتاح بزرگ ثقافتی شخصیتوں یعنی میر ولی المعروف کوراغو ماسٹر اور دول ماما کے ہاتھوں کیا گیا جو کہ ایک مثبت پیغام تھا. باقی کے پروگرامات بھی بخیرو خوبی انجام پاۓ جن میں لوگوں کی روایتی شرکت جوں کے توں رہی. عوامی حلقوں نے جس طرح چاہا گیا تھا بائکاٹ کا ساتھ نہیں دیا. متعددبہ لوگ سوشل میڈیا پر جشن کے بائکاٹ کی حمایت بھی کی. مگر اچھا خاصا حصہ مذکورہ تنظیموں کی جانب سے جشن سے قطع تعلق کو ناپختگی بلکہ خود عرضی قرار دیا. ان کا کہنا تھا کہ اگر جشن قاقلشٹ میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے سے چترالی ثقافت کو نقصان پہنچنے کا احتمال تھا تو اس کا سدباب کھوار ادیبوں اور شاعروں کی بھرپور شرکت سے کیا جاسکتا اور یوں منفی اثرات کو ذائل کیے جاسکتے تھے. 

ضلعی انتظامیہ نے اپنی طرف سے بائکاٹ میں شامل شرکاء کو بات چیت کے زریعے منانے کی بھی سعی کی. ساتھ ہی ایون سے تعلق رکھنے والے جشن قاقلشٹ کے منتظم مہتاب زیاب نے بھی متعلقہ ادباء و شعراء کی منت کرکے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے رہے. مگر بائکاٹ کرنے والوں نے کسی بھی قیمت پر راضی ہونے اور شرکت کرنے کو تیار نہیں تھے. کچھ حلقوں کی جانب سے یہ بھی سنا گیا کہ انتظامیہ کے مطابق بائکاٹ کرنے والے رقم کا مطالبہ کررہے تھے جس کی تصدیق یا تردید نہیں کی جاسکتی. بہرحال ان دنوں انتظامیہ اور جشن قاقلشٹ کے خلاف میڈیا مہم بھی چلائی گئی جس میں اول الذکر کی خوب سرزنش ہوتی رہی. تاہم جشن قاقلشٹ کے بعد واقعات کس نہج پر مرتب ہوۓ ان کا تذکرہ اگلی قسطوں میں کیا جاۓ گا تاکہ لوگوں کے سامنے حقائق رکھ کر انہیں آزادانہ اور منصفانہ فیصلے کے قابل بناۓ جائیں.




کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں