28 مئی، 2018

اے سی چترال ایکشن میں: بازاروں کا معائنہ گران فروشوں پر بھاری جرمانہ، چکن فروشوں کو جیل بھیج دیا، دکانیں سیل کردیں

اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز کا چترال بازار کا معائنہ۔ گراں فروشوں پر بھاری جرمانے عائد۔ مرغی فروشوں میں مہنگے داموں بیچنے والوں کو جیل بھیج دیا۔ بعض دکانیں سیل کردی گئی۔

چترال (گل حماد فاروقی) عوام کے شکایت پر ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگیا۔ ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سودھر کے ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجد نواز نے چترال کے محتلف بازاروں کا معائنہ کیا۔ اے سی چترال نے اتالیق بازار میں سبزی فروش، پھل فروش اور کریانے کے دکانوں میں جاکر ان کے ترازو چیک کئے اور زائدالمیعاد چیزوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر بعض دکانداروں کے ترازو غلط تھے اور گاہک کو دینے والی چیز جس پلڑے میں تولا جاتا ہے وہ بھاری تھا جس پر اے سی موقع پر ان کو جرمانہ کیا۔ 



اسی طرح عوام کے شکایت پر انہوں نے مرغی فروشوں اور قصائیوں کے دکانوں کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عوام کو بتایا کہ مرغی تول یعنی وزن کے حساب سے لیا کرے اور حلال شدہ مرغی کی قیمت 210 روپے فی کلو لگائی گئی ہے اسی حساب سے دکاندار سے مرغی خریدا کرے۔ اس موقع پر چند صارفین نے شکایت کی کہ گورنر کاٹیج روڈ پر چند دکاندار مرغی کو بغیر وزن کے ویسے دیتے ہیں جو مہنگا پڑتا ہے اس پر اے سی چترال نے خود جاکر معائنہ کیا اور جو دکاندار عوام کو لوٹ رہے تھے ان کے دکان سیل یعنی سر بمہر کردیا اور ان کو جیل بھیج دیا۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے اے سی ساجد نواز نے کہا کہ انہوں نے تاجر یونین کے صدر شبیر احمد کے ہمراہ چترال کے محتلف بازاروں کا معائنہ کیا اور جو دکاندار آشیائے خوردنوش اور مرغی، گوشت وغیرہ مہنگا فروخت کر رہے تھے ان پر بھاری جرمانے لگادئے گئے جن کی مالیت پچاس ہزار روپے بنتی ہے۔ 

اس موقع پر انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ جب مرغی خریدے تو وزن کے حساب سے یعنی تول کر لیا کرے اور جو دکاندار حلاف ورزی کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اے سی کے نوٹس میں لایا کرے تاکہ ان دکانداروں پر جرمانہ عائد کیا جائے۔ 

عوام نے اے سی چترال کے اس اقدام کو نہایت سراہا اور امید ظاہر کی کہ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں اب نہ صرف مرغی اور گوشت عوام کوآسانی سے ملے گی بلکہ اس کی قیمت بھی مناسب ہوں گی اور ماضی کی طرح نہ تو ان چیزوں کو پر لگیں گی اور نہ ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرین گی۔

تاجر یونین چترال کے صدر شبیر احمد نے کہا کہ وہ خود بھی دکانداروں سے آکر کہتا رہتا ہے کہ اس مقدس مہینے میں چیزوں کو نہ تو غائب کرے تاکہ مصنوعی قلعت پیدا ہوجائے اور ذحیرہ اندوزی سے بچتے ہوئے ان کی قیمتیں بھی مناسب رکھیں تاہم جو دکاندار قانون کی حلاف ورزی کرتا ہے تو انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کے حلاف قانونی کاروائی کرے اور ان پر جرمانہ عائد کرے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں