14 مئی، 2018

نوجوانون کی آواز کو دھمکیوں سے خاموش نہیں کیا جاسکتا

 


کراچی(پریس ریلیز) چترال اسٹوڈنٹ اینڈ سوشل ویلفئر ایسوسی ایشن اور چترال اسماعیلی یوتھ فورم کراچی کا ایک مشرکہ اجلاس جناب میر شجاع  کی صدارت میں گزشتہ روز کراچی میں منعقد ہوئی جس میں چترال میں پیدا ہونے والے صورت حال جو کہ جماعتی یوتھ اور اداروں کے درمیاں خلا پیدا کر رہی ہے، پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ظہران شاہ سابق جنرل منیجر آغاخان ایجوکیشن سروس چترال اور موجودہ سیکورٹی انچارچ دربار، کی جانب سے چترال میں موجود نوجوانون کے سرگرم نمائندوں کے خلاف عدالت میں کیس درج کرنا انتہائی غیر سنجیدہ فعل ہے۔ اگر موصوف اپنے آپ کو ابھی بھی اسماعیلی لیڈر سمجھتے ہیں تو ان کو یہ کیس اسماعیلی اداروں میں لے جانا چائیے تھا مگر یہ بد نیتی پر مبنی فعل ہے کہ اپنے اداروں کو چھوڑ کر عدالت سے رجوع کرتے ہیں اور اس کا مطلب یہ لیا جائے گا کہ موصوف اور عملداران اپنے آپ کو اداروں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ 

یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ اگر ہمارے نمائندوں کے خلاف یہ دھمکی آمیز یا ڈرانے یا پھر عدالت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم کراچی میں موجود جماعتی اداروں کے باہر دھرنا دینے پر مجبور ہونگے۔ اور شوسل میڈیا میں اجتجاج ریکارڈ کرین گے۔ اداروں میں موجود افراد کو یہ سمجھ لینا چائیے کہ وہ اقرابا پروری، رشتہ پروری کے جنجٹ سے نکل کر جماعتی اداروں کے آئین کے مطابق خدمت انجام دیں اور سارے مسائل کو مصالحت کی میز پر لائیں اور جلد از جلد حل کریں ورنہ بدمزگی پیدا ہوگی اور اس کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔ آج کے دور کے نوجوان یہ جان چکے ہیں کہ اداروں میں پچھلے 40 سال قابض لوگ اپنے مفادات کے تحت اداروں کو چلا رہے ہیں اور اب اسے مزید نہیں چلنے دیا جائے گا۔ بہت جلد کراچی ریجن کے تمام ایریا صدور اور ان کے کبینٹ کا اجلاس بلایا جائے گا جس میں ایکشن پلان تشکیل دی جائے گی۔



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں