21 مئی، 2018

گجرات کے حسین کالونی کے ہزاروں مکین گٹر کے پانی کے بیچ میں رہنے پر مجبور۔ گندا پانی کی نکاسی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہیں ۔ علاقے کے مکین محتلف بیماریوں میں مبتلا۔

گجرات (گل حماد فاروقی) پنجاب کا صنعتی شہر گجرات اونچا دکان پھیکا پکوان کے مصداق پر پورا اترتا ہے اس شہر میں پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کی بھی کوئی اثرات نظر نہیں آئے۔ گجرات شہر کے حسین کالونی کے ہزاروں مکین ایسے جگہہ رہنے پر مجبور ہیں جہاں چاروں طرف چار سے پانچ فٹ گہرا گندھے پانی کے جوہڑ ہیں ان گندے پانی پر آبی پودے اگے ہیں جو عام لوگوں کیلئے ایک دھوکے میں اس پر چلنے کا باعث بنتا ہے۔ 



حسین کالونی میں تین ایسے مکانات بھی دیکھنے میں آئے جس کے چاروں طرف ان آبی پودوں کے بڑے بڑے کھیت ہیں جس کے نیچے چار فٹ گہرا گندا پانی کھڑا ہے۔ یہ مکانات اکثر حالی ہیں ان کے مکینوں نے اپنی تئیں کوشش کرکے بوریوں میں مٹی، ریت، بجری رکھ کر اپنے گھروں تک جانے کا راستہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر جب وہ ناکامی سے دوچار ہوئے تو غنیمت اس میں جانی کہ گھر ہی چھوڑ کر دوسری جگہہ ہجرت کرے اور اب یہ مکانات حالی پڑے ہیں اس کے دروازیں بھی کھلی پڑی ہیں پوچھنے پر بتایا گیا کہ دروازہ بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہاں چور تو کیا کوئی جانور بھی نہیں جاسکتا اگر کوئی جانے کا کوشش بھی کرے گا تو اس چار فٹ گہرے گندے پانی کے دلدل میں پھنس جائے گا۔ 

ہمارے نمائندے نے رضاکارانہ طور پر چترال سے جاکر گجرات کے ان بدقسمت مکینوں کی رہنے والی جگہہ کا دورہ کیا جہاں لوگوں نے شکایات کے انبھار لگائے۔ 



اس کالونی کے بیچ میں جو سڑک گزرتا ہے اس سڑک کے اوپر ہی گندا پانی گزرتا ہے سائکل پر چلنے والا عبدالجبار روزانہ اس راستے سے گزرتا ہے مگریہاں آکر وہ اپنا دھوتی اٹھاتا ہے تاکہ گندے پانی کی چینٹیں نہ پڑے۔ 

الطاف حسین ایک نوجوان لڑکا بھی اسی راستے سے گزررہا تھا اس نے ان مکانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نہایت غریب لوگ ہیں بڑی مشکل سے پیسہ پیسہ جمع کرکے مکان بنایا ان کو یہ امید تھی کہ حکومت ان کی حال پر رحم کرتے ہوئے ان کیلئے راستہ ضرور بنائے گا مگر جب ان کو کوئی راستہ نہیں ملا تو مجبوراً اپنے مکانات چھوڑ کر دوسری جگہہ کرائے کے مکان میں رہنے پر مجبو ر ہیں۔ 

حسین کالونی میں ایک ایسا مکان بھی دیکھا گیا جن کے چاروں طرف گندا پانی کھڑا تھا جس سے نہایت غلیظ قسم کی بدبو بھی آرہی تھی وہاں ایک بوڑھی مائی نے کہا کہ ہم روز اللہ سائیں سے دعا مانگتی ہیں کہ گجرات میں بارش نہ ہو کیونکہ ایک تو پہلے سے گندا پانی کھڑا ہے اور جب بارش برستا ہے تو بارش کا پانی ہمارے گھروں کے اندر گھس کر ہمارا جینا حرام کردیتا ہے۔ 

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کا منتحب رکن صوبائی یا قومی اسمبلی نے ان کیلئے کچھ نہیں کیا تو جواب ملا کہ اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کا ایم پی اے منتحب ہوا ہے اور اس کو انتحابات کے بعد ان لوگوں نے دیکھا بھی نہیں۔ بدقسمتی سے اس علاقے میں کوئی خاکروب، میونسپل کارپوریشن کی جانب سے گند اٹھانے والی ٹرالی یا کوئی عملہ بھی نہیں ہیں اور لگتا یوں ہے کہ یہ لوگ گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہی ہیں۔

اس گندے پانی کی وجہ سے اس علاقے میں بہت زیادہ مچھر ہیں اور لوگ پنکھا لگانے کے باوجود بھی مچھر دانی میں لیٹنے پر مجبور ہیں۔ایک بچے نے بتایا کہ ان کو روز مچھر کاٹتا ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر بیمار پڑتا ہے مگر یہاں مچھر مار سپرے بھی نہیں کی جاتی نہ اس گندا پانی کو نکالنے کیلئے کوئی نالی بنائی گئی ہیں۔

ہمار ے نمائندے نے گجرات کے میئیر ، ڈپٹی کمشنر اور ایم پی اے سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کوشش بسیار کے باجود انہوں نے بات کرنا گوارا نہیں کی۔ 

علاقے کے مکین مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی حالت پر رحم کی جائے اور یہاں سینیٹیشن اور نکاسی آب کا باقاعدہ انتظام کرکے نالیاں بنایا جائے تاکہ یہ گندا پانی باہر نکل سکے اور یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس آجائے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں