21 مئی، 2018

چترال میں ایک اور خاتون نے خودکشی کرلی، واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے موری سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نے خودکشی کرلی۔ ایس ایچ او حسن اللہ تھانہ کوغذی کے مطابق موری سے تعلق رکھنے والی نور الاسلام کی بیٹی نے اتوار کے روز گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا حاتمہ کرلیا۔ پولیس کے مطابق افسانہ بی بی دختر نور الاسلام شادی شدہ ہے۔

کچھ عرصہ قبل اس خاتون کا شوہر بھی بمبوریت میں دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوا تھا جس کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے اس کی بیوی نے بھی آج زندگی کا حاتمہ کرلیا۔ پچھلے سات مہینوں میں خودکشیوں کا یہ پچیسواں کیس ہے۔ متوفیہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا گیا۔ نورا لاسلام نے فون پر ہمارے نمائندے کو ہسپتال سے فون پر بتایا کہ انہوں نے لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا ہے مگر پوسٹ مارٹم کرنے کیلئے کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاش کو صبح گیارہ بجے ہسپتال لایا گیا مگر ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بھی گھر سے باہر نہیں نکلتا نہ کوئی ڈاکٹر موجود ہے تاکہ اس کی پوسٹ مارٹم کرکے لاش کو ہمارے حوالہ کرے۔ 

واضح رہے کہ چترال کے ہسپتالوں میں ایک طرف ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے جبکہ دوسری طرف اکثر ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ گھر بیٹھے بغیر کسی ڈیوٹی کے تنخواہ لے رہے ہیں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر غلام اللہ نے اپنے ٹیم کے ہمراہ محتلف ہسپتالو ں پر چھاپے مارے جہاں پتہ چلا کہ کئی ڈاکٹر پچھلے سال ڈیوٹی نہیں کرتے اور گھر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے شکایت کہ انہوں نے کئی بار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسراراللہ کے نوٹس میں لانے کیلئے ان کے دفتر گئے مگر پتہ چلا کہ DHO پشاور گئے ہیں انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی ایچ او کو پاکستان تحریک انصاف کی آشیر باد حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا عوامی شکایات پر تین بار تبادلہ ہوا مگر تینوں بار پی ٹی آئی کے ایک اہم سربراہ نے اس کا تبادلہ منسوح کراکے دوبارہ چترال کا ڈی ایچ او لگایا۔ لوگوں نے یہ بھی الزا م لگایا کہ وہ اپنے دفتر میں کم بیٹھتا ہے مگر اپنے ٹی اے ڈی اے لینے کیلئے ہمیشہ چترال سے باہر میٹنگ وغیرہ کیلئے جاتا رہتا ہے جبکہ اس سے قبل کسی ڈی ایچ او نے اتنی بار مہینے میں دفتر نہیں چھوڑا۔ 

نور الاسلام نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرتے ہوئے جن کی ڈیوٹی لگی ہیں ان کو پابند کی جائے کہ وہ اپنا فرض منصبی ایمانداری سے نبھائے۔ تاکہ مریضوں اور عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں