12 جون، 2018

چترال میں 2018 کے انتحابات میں قومی اسمبلی کیلئے 18 امیدوار جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے 27 امیدوار قسمت آزمائی کریں گے۔

 


چترال (گل حماد فاروقی) چترال میں امسال متوقع انتحابات میں حصہ لینے کیلئے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون چترال کیلئے 18 امیدوار انتحابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے حلقہ پی کے ون کیلئے 27 امیدوار میدان میں کھود پڑے ہیں۔ تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے امیدواروں نے جلوس کی شکل میں عدالت کے احاطے میں آکر کاغذات نامزدگی جمع کئے۔ 



قومی اسمبلی کیلئے سابق صدر پرویز مشرف نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کی جبکہ اسی نشست پر پچھلے انتحابات میں آل پاکستان مسلم لیگ کے شہزادہ افتحارالدین جیت چکے تھے جو بعد میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ میں شامل ہوئے اور اس انتحابات میں وہ PML-N کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ صوبائی نشست پر معروف قانون دان عبد الولی خان ایڈوکیٹ قسمت آزمائی کررہے ہیں عبدالولی خان ایڈوکیٹ پہلے جماعت اسلامی میں تھے جسے چھوڑ کر وہ آفتاب شیرپاؤ کے قومی وطن پارٹی میں آگئے وہ مسلسل صوبائی اسمبلی کی انتحابات میں حصہ لے رہے ہیں مگر ابھی تک قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت احتیار کرلی اور بعد میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ میں شامل ہوئے اس سال وہ اسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتحابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ 

قومی اسمبلی کیلئے مولانا عبد الاکبر چترالی، محمد یحییٰ، سعید الرحمان ، محمد امجد، حزب اللہ، ، عید الحسین، نثار دستگیر، سلیم خان، شہزادہ محمد تیمور خسرو، وجیہ الدین، ہدایت الرحمان، سابق صدر جنر ل ریٹائرڈ پرویز مشرف، اسی کے پارٹی کے کورنگ امیدوار کے طور پر سلطان وزیر خان، مسز تقدیرہ اجمل، شہزادہ افتحار الدین، عبد القیوم، پاکستان تحریک انصاف کے عبد الطیف اور آزاد امید وار شاہ ابوالمنصور نے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد خان کے دفتر میں جمع کئے 

قومی اسمبلی میں صدر پرویز مشرف کے مقابلے میں مضبوط امیدوار شہزادہ افتحار الدین کو سمجھے جاتے ہیں جو نواز گروپ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 

صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی کے وین کیلئے 27 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی سینئر سول جج ریٹرننگ آفیسر عابد زمان کے دفتر میں جمع کئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ 

امیر اللہ، عبد الرحمان، سید سردار حسین شاہ، سعادت حسین محفی، مولانا عبد الاکبر چترالی، سردار احمد خان، سہراب خان، حزب اللہ، اسرار الدین، عطا ء اللہ، وزیر خان، غلام محمد، شہزادہ امان الرحمان، ہدا یت الرحمان، رضیت با اللہ، عبد الصمد، وجیہ الدین، مصبا ح الدین، سلطان وزیر خان، شہزادہ امیر حسنات الدین، محسین حیات، تقدیرہ اجمل، شفیق الرحمان، امیر اللہ، عبدالولی خان عابد، شاہ ابو المنصور۔ 

ان امیدواروں میں اکثر سابق پارلیمنٹیرین رہ چکے ہیں۔ مثلاً حاجی غلام محمد جو جو مرتبہ آل پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتحب ہوئے تھے مگر دوسری بار پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار حسین نے دوبارہ گنتی کرواکے اسے ہرادیا اور وہ ایم پی اے منتحب ہوئے۔ حاجی غلام محمد بعد میں جمعیت علمائے اسلام میں چلے گئے اور حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتحابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ 

APML کی واحد خاتون امیدوار تقدیرہ اجمل پہلی بار بطور خاتون امیدوار انتحابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ 

سب سے کم عمر امیدوار جماعت اسلامی کے وجیہ الدین ہے۔ دروش سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے رہنماء رضیت با اللہ نے آزا د امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کئے اس بار بعض سیاسی پارٹیوں کے وہ امیدوار جن کو پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہیں ملی انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذات نامزدگی جمع کئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے شہزادہ امان الرحمان نے بھی کاغذات جمع کئے جن کے بارے میں توقع کیا جاتا تھا کہ اسے پارٹی کا ٹکٹ دیا جائے گا مگر پارٹی نے اسرار صبور کا نام تجویز کیا۔سابق صدر پرویز مشرف کے پارٹی کے جانب سے بھی کئی امیدواروں نے کورنگ امیدوار کے طور پر کا غذات جمع کئے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں